لاہور(ویب ڈیسک) لاہور کے اہم ترین حلقے این اے 130 سے متعلق الیکشن ٹربیونل نے اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف دائر انتخابی عذرداری مسترد کر دی ہے۔ الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس رانا زاہد محمود نے کیس کی مکمل سماعت کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن مکمل طور پر درست اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہے۔ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے موقف اختیار کیا کہ انتخابی نتائج تمام ضابطوں کے تحت مرتب کیے گئے اور مخالف امیدوار کی جانب سے لگائے گئے الزامات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹربیونل نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے اور ریکارڈ کے جائزے کے بعد میاں نواز شریف کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

واضح رہے کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 130 لاہور سے میاں نواز شریف 1 لاکھ 71 ہزار 24 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے تھے، جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1 لاکھ 15 ہزار 43 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ فارم 45 اور 47 کے اعداد و شمار میں واضح تضاد موجود ہے اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے ان کی جیت کو شکست میں بدلا گیا، تاہم ٹربیونل نے تمام قانونی پہلوؤں کو پرکھنے کے بعد ان کے دعوؤں کو ناکافی قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد اس حلقے سے نواز شریف کی رکنیت کے حوالے سے جاری قانونی تنازع ختم ہو گیا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے