اکرا، گھانا (ویب ڈیسک) افریقی ملک گھانا میں ایک خود ساختہ نبی "ایبو نوح” (Ebo Noah) نے عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی کر کے ہزاروں افراد کو گمراہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی لوگوں نے اپنی جائیدادیں فروخت کر کے "نجات کی کشتیوں” میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایبو نوح، جو 30 سالہ گھانائی شہری ہے، نے دعویٰ کیا کہ 25 دسمبر 2025 کو ایک عظیم طوفان آئے گا جو تین سے چار سال تک جاری رہے گا اور صرف وہ لوگ بچیں گے جو اس کی تیار کردہ کشتیوں میں سوار ہوں گے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ایبو نوح کو لکڑی کی کشتیاں تیار کرتے اور لوگوں کو توبہ، روزہ اور دعائیں کرنے کی تلقین کرتے دکھایا گیا۔ اس کی پیش گوئی پر یقین کرتے ہوئے ہزاروں افراد گھانا کے اشانتی اور کماسی علاقوں کی طرف گئے، کئی نے اپنے گھر اور کاروبار فروخت کر کے چندہ دیا۔ تاہم، طوفان نہ آنے پر لوگوں میں شدید غصہ اور مایوسی پھیلی۔

ایبو نوح نے بعد میں دعویٰ کیا کہ خدا نے طوفان مؤخر کر دیا ہے تاکہ مزید لوگ نجات حاصل کر سکیں، اور مزید کشتیوں اور خیموں کی تیاری کا اعلان کیا۔ اس کے دوران ایک وائرل ویڈیو میں اسے 89 ہزار امریکی ڈالر کی مرسڈیز بینز میں دیکھا گیا، جو عوام میں شدید تنقید کا باعث بنی۔ ایک شخص نے احتجاج کے طور پر کشتی کو آگ لگا دی، لیکن یہ کشتی اصل میں کسی اور کی تھی۔

گھانا کی سکیورٹی فورسز نے ایبو نوح کو جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا، تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ 25 دسمبر کو، طوفان نہ آنے کے دن، ایبو نوح نے گھانا کے مشہور ریپر سارکوڈی کے کنسرٹ میں شرکت کی، جس نے سوشل میڈیا پر مزید بحث کو جنم دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایبو نوح کے خلاف قانونی کارروائی اور چندے کے غلط استعمال کی تحقیقات جاری ہیں۔ مذہبی ماہرین نے اسے "جعلی نبی” قرار دیا اور شہریوں کو ایسی افواہوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس واقعے نے گھانا اور افریقہ بھر میں مذہبی دھوکہ دہی، سوشل میڈیا کی طاقت اور عوامی کم علمی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے