ڈیرہ غازی خان میں ٹریفک قوانین کا دوہرا معیار، ٹریکٹر ٹرالی مافیا قانون سے بالاتر
شاہدخان کی رپورٹ
ڈیرہ غازی خان میں ٹریفک قوانین کی عملداری ایک عجیب تضاد کا شکار نظر آتی ہے، جہاں ایک طرف عام شہری اور موٹر سائیکل سوار قانون کی گرفت میں ہیں تو دوسری جانب ٹریکٹر ٹرالیوں کا بااثر طبقہ کھلے عام ضابطوں کی دھجیاں اڑاتا پھر رہا ہے۔ مقامی سطح پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، شہر میں موٹر سائیکل سوار اگر چند منٹ کے لیے بھی بغیر ہیلمٹ سڑک پر آ جائے تو ٹریفک پولیس فوری چالان، لائسنس کی پڑتال اور قانونی کارروائی عمل میں لاتی ہے، لیکن اوور لوڈڈ ٹریکٹر ٹرالیاں بغیر رجسٹریشن، بغیر لائسنس اور کسی بھی حفاظتی اقدامات کے بغیر سڑکوں پر دندناتے پھرنا معمول بن چکا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالات اٹھا رہا ہے کہ کیا یہ بااثر طبقہ قانون سے بالاتر ہو چکا ہے یا انہیں کسی مخصوص حلقے کی سرپرستی حاصل ہے۔

ان لاپرواہ گاڑیوں اور اوور لوڈنگ کے باعث جہاں متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معصوم بچے حادثات کا شکار ہوئے، وہیں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ سڑکیں بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ خاص طور پر وڈور روڈ اور سخی سرور روڈ شدید خستہ حالی کا شکار ہیں، جہاں روزانہ درجنوں اوور لوڈڈ ٹریکٹر ٹرالیاں بلا روک ٹوک سفر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی سڑکیں چند سال بھی پورے نہیں کر پا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں شہریوں کا مطالبہ ہے کہ قانون کا اطلاق سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور صرف کمزور طبقے کو نشانہ بنانے کے بجائے ٹریکٹر ٹرالیوں کے خلاف بھی مؤثر اور مستقل کریک ڈاؤن کیا جائے۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوور لوڈنگ، بغیر لائسنس ڈرائیونگ اور بغیر رجسٹریشن گاڑیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور قومی اثاثوں کی تباہی کو روکا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کسی بڑے سانحے کے انتظار میں خاموش رہنے کے بجائے فوری ایکشن لینا چاہیے، کیونکہ سڑکوں پر دندناتے یہ بے لگام ٹریکٹر اب عوام کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سڑکوں کی تباہی کے ذمہ داروں سے حساب لیا جائے اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے