اودے پور میں ہولناک جنسی تشدد: IT کمپنی کی خاتون منیجر کو چلتی کار میں اجتماعی زیادتی، سی ای او سمیت 3 گرفتار – بھارتی معاشرے کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب
اودے پور (راجستھان,ویب ڈیسک)، بھارت: بھارتی ریاست راجستھان کے شہر اودے پور میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک IT کمپنی کی خاتون منیجر کو سال نو کی پارٹی کے بعد گھر چھوڑنے کے بہانے چلتی کار میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ہولناک واردات میں کمپنی کے سی ای او جیش پراشر، ایک خاتون ایگزیکٹو شلپا اور اس کے شوہر گورو راٹھور ملوث پائے گئے ہیں، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی تباہی کی داستان ہے بلکہ بھارتی معاشرے میں خواتین پر جاری جنسی تشدد اور ہراسانی کی گھمبیر صورتحال کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، جہاں قوانین اور تحریکوں کے باوجود ایسے جرائم مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 25 دسمبر کو کمپنی کی برتھ ڈے پارٹی کے بعد متاثرہ خاتون کو سی ای او اور ان کے ساتھیوں نے لفٹ دینے کا بہانہ بنا کر کار میں بٹھایا۔ راستے میں انہوں نے نشہ آور اشیا خریدیں اور خاتون کو زبردستی پلائیں، جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ خاتون کا بیان ہے کہ رات ایک بجے پارٹی سے نکلنے کے بعد انہیں کار میں نشہ دیا گیا، اور جب صبح 9 بجے ہوش آیا تو وہ گھر پر تھیں مگر نیم بے ہوشی کی حالت میں۔ ہوش میں آنے پر انہیں جسم پر شدید چوٹوں کے نشانات نظر آئے، ذاتی اشیا غائب تھیں، اور انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
پولیس کو دیئے گئے بیان میں خاتون نے بتایا کہ "مجھے راستے میں سے کچھ چیزوں کا استعمال کرایا گیا جو سگریٹ کی طرح لگتی تھیں، جس سے میں مکمل طور پر بے قابو ہو گئی۔ صبح جب ہوش آیا تو میرے جسم پر درد اور چوٹوں کے نشانات تھے، اور مجھے احساس ہوا کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔” اگلے دن یعنی 26 دسمبر کو خاتون نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے جسم پر چوٹوں اور تشدد کے نشانات کی تصدیق ہوئی ہے، جو اجتماعی زیادتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پولیس نے کار میں نصب ڈیش کیم کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کا جائزہ لیا، جو ٹھوس شواہد کے طور پر استعمال ہوئیں۔ ملزمان کو بھارتیہ نیائے سانہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ بھارتی معاشرے میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کا حصہ ہے۔ بھارت میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی اور زیادتی کا سامنا کرنا ایک پرانا اور سنگین مسئلہ ہے، جو کارپوریٹ، IT، میڈیا اور دیگر شعبوں میں عام ہے۔ 1997 میں وشاکھا کیس کے بعد سپریم کورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کے تحفظ کے لیے رہنما اصول جاری کیے تھے، جن کی بنیاد پر 2013 میں "جنسی ہراسانی کی روک تھام، ممانعت اور ازالہ ایکٹ” نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں کو انٹرنل کمپلینٹس کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایات دی گئیں، مگر اس کے باوجود ایسے واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔
2018 کی #MeToo تحریک نے بھارت میں ایک انقلاب برپا کیا، جہاں ہزاروں خواتین نے بااثر افراد – بشمول فلم انڈسٹری، سیاستدانوں اور کارپوریٹ لیڈرز پر ہراسانی اور زیادتی کے الزامات عائد کیے۔ اس تحریک سے متعدد کیسز سامنے آئے، جن میں سے کئی میں مجرموں کو سزا بھی ہوئی، مگر مجموعی طور پر معاشرتی رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کی رپورٹس کے مطابق، بھارت میں ہر سال لاکھوں خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، اور 2022 میں صرف ریپ کیسز کی تعداد 31,000 سے زائد تھی، جو اصل تعداد سے کہیں کم ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔
خاص طور پر IT سیکٹر میں، جہاں خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے، ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اودے پور جیسے شہروں میں، جہاں کارپوریٹ کلچر ابھر رہا ہے، خواتین کو پارٹیوں اور سوشل ایونٹس میں نشہ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود نفاذ کی کمی، معاشرتی تعصبات اور طاقتور افراد کی عدم جواب دہی کی وجہ سے خواتین کی حفاظت خطرے میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز سے معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے، جو خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملزمان سے پوچھ گچھ میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔ اس واقعے نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں لوگ قوانین کی سخت نفاذ اور معاشرتی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ کیس ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ بھارت میں خواتین کی حفاظت کے لیے کتنے مزید قوانین اور تحریکیں درکار ہیں؟