کراچی(ویب ڈیسک): گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے جو ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ساتھ رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے نام پر محض سیاست چمکائی جا رہی ہے، ایسے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور سید امین الحق کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ جیسے ملک میں پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی، وہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی بیرونِ ملک پاکستانیوں کو گمراہ کر رہی ہے اور عوام کو ایسے بیانیے سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ بیانیہ کامیاب نہیں ہوگا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ پی ٹی آئی برطانیہ میں مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں اتنی سہولیات حاصل ہیں کہ وہ باہر آنا ہی نہیں چاہتے۔
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور کارکنوں کو عمران خان سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا چاہیے، جیسا کہ ایم کیو ایم نے ہر مشکل وقت میں دیا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو شخصیات سے نکل کر عوامی مسائل کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اس وقت ایمرجنسی جیسی صورتحال سے گزر رہا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں اور ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کریں۔