نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور بھارتی اخبار "دی ہندو” نے سال 2025 کو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور عالمی سطح پر رسوائی کا سال قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ برس بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین عرصہ ثابت ہوا ہے۔ اخبار کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بھارت کی علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقت میں معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا متبادل ثابت نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے بھارت کو خود سے اور اپنے شراکت داروں سے کیے گئے وعدوں میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران بھارت کو 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیوں اور ایچ ون بی ویزا قدغنوں کا سامنا رہا، جبکہ امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی میں بھی بھارت کے کردار کو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔ اخبار نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہو سکی اور امریکی دباؤ کے باعث بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے دیرینہ موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو بھارت کی سنگین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ اس حملے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو عالمی سطح پر کوئی سفارتی حمایت حاصل نہ ہو سکی، بلکہ طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے الٹا بھارتی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے اعلان کو بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا گیا ہے، جبکہ بھارتی تجزیہ کار اب پاکستان کی قیادت کو پہلے سے کہیں زیادہ "سخت گیر اور منظم صلاحیتوں والی” تسلیم کرنے لگے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور بھارت کی جانب سے اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا دراصل اس کی اصلاح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے