بھارتی ایوی ایشن سیکٹر میں پائلٹس کی ذہنی حالت اور نفسیاتی جانچ کے ناقص نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جس سے مسافروں کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ عالمی اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی سول ایوی ایشن میں پائلٹس کی نفسیاتی اسکریننگ کا غیر مؤثر ہونا فضائی سفر کو غیر محفوظ بنا رہا ہے۔ حالیہ واقعے میں، بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ دہلی ایئرپورٹ پر ایئر انڈیا ایکسپریس کے ایک پائلٹ نے بورڈنگ لائن توڑنے جیسے معمولی تنازع پر ایک مسافر کو مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد فضائی عملے کے رویے اور ذہنی حالت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ متاثرہ مسافر اس حملے کے نتیجے میں لہولہان ہو گیا تھا۔

اس واقعے نے بھارتی ہوائی اڈوں پر بڑھتی ہوئی بے نظمی اور تشدد کے رجحان کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں متاثرہ مسافر کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب سڑکوں کے بعد ایئرپورٹس بھی محفوظ نہیں رہے۔ دوسری جانب، نیویارک پوسٹ سمیت بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بھارتی ایوی ایشن میں پائلٹس کے بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، احمد آباد طیارہ حادثے سے قبل بھی ایسے شواہد سامنے آئے تھے کہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار پائلٹس کو پرواز کی اجازت دی گئی تھی، جس پر ایئر انڈیا کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پائلٹس کی نفسیاتی صحت کو نظر انداز کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ غفلت ہے بلکہ یہ سینکڑوں معصوم مسافروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔

عالمی ایوی ایشن ماہرین نے بھارتی حکام اور ایوی ایشن ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ پائلٹس کی نفسیاتی جانچ اور اسکریننگ کے نظام کو فوری طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے فضائی حادثے یا پرتشدد واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، ایئر لائنز کو اپنے عملے کے کام کے اوقات اور ذہنی سکون کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ ایک غیر مستحکم ذہنی حالت کا حامل پائلٹ فضا میں ایک "ٹائم بم” کی مانند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ مسافروں کا فضائی سفر پر اعتماد بحال ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے