میرپور ماتھیلو(نامہ نگارمشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سنٹر کے انچارج اسحاق نائچ کی مبینہ بدسلوکی، من مانی اور غیر ذمہ دارانہ رویّے کے خلاف عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں اور مستحق خواتین کا الزام ہے کہ سرکاری دفتر کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی اثر و رسوخ اور خوف و دباؤ کا مرکز بنا دیا گیا ہے، جس کے سبب غریب اور مستحق طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم اور شدید مشکلات کا شکار ہے۔ عوامی احتجاج نے دفتر کے خلاف سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہریوں کے مطابق بی آئی ایس پی دفتر میں غریب اور مستحق خواتین کے ساتھ نامناسب اور ذلت آمیز لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، جبکہ بلاجواز اعتراضات لگا کر انہیں بار بار دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ معمولی بات پر بھی انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور دفتر میں ایک بدتمیز ملازم تعینات ہے جو عوام اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے، جس سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آئی ایس پی دفتر میں سرکاری قواعد اور اخلاقیات کے منافی ’’ہماری من مانی چلے گی‘‘ کے انداز میں معاملات چلائے جا رہے ہیں، جو ایک فلاحی ادارے کے بنیادی مقصد کے سراسر خلاف ہے۔
شہریوں نے اس سنگین صورتحال کا انکشاف کیا کہ بی آئی ایس پی سنٹر کا دفتر پریس کلب کے بالکل سائیڈ میں واقع ہے، اور انچارج اسحاق نائچ مبینہ طور پر اسی قربت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پریس کلب کے سہارے دفتر میں اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ جو بھی شخص دفتر میں جا کر معمولی سی بات یا شکایت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو فوراً پریس کلب یا اس سے منسلک افراد کو بلا لیا جاتا ہے۔ سائلین کو یہ کہہ کر دباؤ میں لایا جاتا ہے کہ ’’پریس کلب سے بات کرنی ہے‘‘، جس کے بعد شہریوں اور مستحق خواتین کو خوفزدہ کیا جاتا ہے اور انہیں اپنی شکایات کھل کر بیان نہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے نام اور اس کے سہارے دفتر میں خوف اور دباؤ کی فضا قائم کی گئی ہے، جس کی وجہ سے غریب خواتین حق بات کرنے سے گھبراتی ہیں۔
اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ذرائع نے بتایا کہ انچارج اسحاق نائچ انہی غیر متعلقہ افراد کے زور پر کھلم کھلا من مانی کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری دفتر میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی قانون اور ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسحاق نائچ کا تعلق اسی نام نہاد پریس کلب کے اس سرکردہ رکن سے ہے جسے تقریباً 11 ماہ قبل صحافت کی آڑ میں منشیات (شراب) کے کیس میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جب یہ نام نہاد صحافی منشیات کیس میں گرفتار ہوا تھا تو اسے چھڑوانے اور کیس پر اٹھنے والا تمام خرچ اسحاق نائچ نے ہی کیا تھا۔ یاد رہے کہ نائچ نے بی آئی ایس پی کا کیمپ رینجرز کیمپ سے ہٹا کر اب اسی نام نہاد پریس کلب کے ساتھ بنا لیا ہے۔ جب کوئی متاثرہ فرد ان کے رویے کے خلاف احتجاج کرتا ہے، تو اس گینگ کے حصہ دار متاثرین کو ہی مورود الزام ٹھہراتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال پر ڈسٹرکٹ انچارج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام گھوٹکی سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے مؤقف دینے سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ ’’میں نکما بیٹھا ہوں، جو تمہاری فضول بن کا جواب دوں۔‘‘ عوامی وسماجی حلقوں نے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو، ضلعی انتظامیہ اور بی آئی ایس پی کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بی آئی ایس پی سنٹر انچارج اسحاق نائچ کو فی الفور ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، کیمپ میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی ختم کی جائے اور بدتمیز عملے کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے۔