(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی متنازع فلم ‘دھریندر’ کو ریلیز ہوتے ہی خلیجی دنیا میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے تمام چھ ممالک—متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان اور کویت—نے فلم پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ سینسر بورڈز کے مطابق فلم میں شامل پاکستان مخالف مواد اور سیاسی طور پر حساس مناظر خطے کے حالات اور سماجی ماحول کے لیے ناموزوں قرار دیے گئے۔

خلیجی ممالک میں بڑی پاکستانی کمیونٹی کے باعث ایسے مواد پر پہلے بھی کڑی نظر رکھی جاتی رہی ہے، تاہم دھریندر کے معاملے میں اعتراضات اس حد تک شدید تھے کہ پابندی کا فیصلہ فوری طور پر نافذ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں ایسی پیشکشوں کی کوئی گنجائش نہیں جو ہمسایہ ممالک کے خلاف نفرت، سیاسی تنازع یا حساس بیانیہ کو فروغ دیں۔

ہدایتکار آدتیہ دھر کی اس فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، سنجے دت، آر۔ مادھون اور ارجن رامپال جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ فلم کی کہانی 1999 کے طیارہ اغوا، 2014 کے پارلیمنٹ حملے اور دیگر حساس سیاسی واقعات سے متاثر ہے۔ اس میں پاکستان کے انڈر ورلڈ سے روابط جیسے مناظر شامل کیے گئے ہیں، جنہیں خلیجی سنسر بورڈز نے سختی سے قابلِ اعتراض قرار دیا۔

فلم 5 دسمبر 2025 کو ریلیز ہوئی اور بھارت میں صرف چھ دنوں میں 188.60 کروڑ روپے کا بزنس کر چکی ہے، جبکہ بیرونِ ملک چار دنوں میں 44.08 کروڑ روپے کمائے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی مارکیٹ کے بند ہونے سے فلم کی ممکنہ کمائی کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ GCC خطہ روایتی طور پر بالی ووڈ کی سب سے بڑی اوورسیز مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پابندی کا یہ فیصلہ صرف سینسر ایکشن نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام بھی ہے کہ خلیج میں ایسا مواد قابلِ قبول نہیں جو علاقائی حساسیتوں سے ٹکرائے یا ممالک کے تعلقات پر اثر ڈالے۔ یوں دھریندر ریلیز کے چند ہی دن بعد سینما سے زیادہ سیاسی تنازع کا عنوان بن کر سامنے آ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے