پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 8 ہوگئی، گورنر فیصل کریم کنڈی کی والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل

پشاور (کیو این این ورلڈ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع خیبر سے پولیو کا چھٹا کیس رپورٹ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ تک پہنچنا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں، مقامی عمائدین اور والدین کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے 2 سے 8 نومبر 2026ء تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو ایک قابلِ تدارک بیماری ہے اور کسی بھی بچے کا اس مرض کا شکار ہونا باعثِ تشویش ہے۔ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، انسدادِ پولیو ٹیموں، مقامی عمائدین اور والدین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مضبوط بنانے کے ساتھ مہم کے دوران ویکسینیشن سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ اداروں کی مؤثر نگرانی اور انسدادِ پولیو اقدامات میں کسی بھی قسم کی غفلت سے گریز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانا قومی عزم ہونا چاہیے اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے