حکمرانوں کی بھوک انسانوں کو نوالہ بنا رہی ہے!
کالم نگار: ظفر اقبال ظفر
نیکی اور بدی کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔ یہ قدم پیچھے ہٹائیں تو کائنات کے عیب میں شمار ہوتے ہیں اور آگے بڑھیں تو اشرف المخلوقات؛ جبکہ درمیان میں ٹھہرے رہنا جانوروں والی بے مقصد زندگی کا مظاہرہ ہے۔ جب تاریخ آگے بڑھ رہی ہو اور تاریخ ساز پیچھے ہٹ رہے ہوں، تو حالات اپنی کہانی خود لکھتے ہیں۔ خالقِ کائنات کی زمین انسانی رزق مفت دے رہی ہے، لیکن حکمران اسے بازارِ زندگی میں گراں بیچیں۔ ایسے حکمرانوں کو فرعون کی طرح اپنے اندر رکھنے سے زمین کو بھی انکار کر دینا چاہیے۔
ایک دفعہ کسی نے مجھ سے کہا کہ اس وجود کو تو قبر میں کیڑے کھائیں گے۔ میں نے فخریہ طور پر زیرِ لب تبسم سجا کر جواب دیا: "جیتے جی کسی انسان کا پیٹ بھرنے کی توفیق نہیں ہوئی، چلو مر کر حشرات کا رزق ہی بن جاؤں گا، میں بھوک کا مسئلہ سمجھتا ہوں صاحب!” یہ پیٹ تو اشرف المخلوقات کی عزت، غیرت اور ایمان تک کھا جاتا ہے۔ نہ غذا کا کوئی مذہب ہے اور نہ بھوک کا، اس بھوک نے ہر مذہب کے انسان کو نوالہ بنا کر نگل لیا ہے۔
بابا فریدؒ نے فرمایا تھا:
پنج رکن اسلام دے تے چھواں فریدا، ٹک
جے نہ لبھے چھواں تے پنجے جاندے مک
یعنی اسلام کے پانچ ارکان ہیں اور چھٹا روٹی، اگر روٹی نہ ملے تو پانچوں ختم ہو جاتے ہیں۔ آج تک ایسا کوئی وظیفہ، ورد، منتر یا دوا دریافت نہیں ہو سکی جسے پڑھ کر غریب یا کوئی بھی انسان بھوک سے آزاد ہو جائے۔ جہاں پیر رکھنے کو ضمیر نہیں مانتا، وہاں ایک باپ اپنے بچوں کی بھوک کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے اور ایک ماں اپنے بچوں کی خوراک کے لیے اپنی عزت کا سودا کر لیتی ہے۔
خالقِ کائنات نے انسانوں کے امتحان کی خاطر اپنی ذات پر صبر و برداشت کے اصول لاگو کر رکھے ہیں۔ جو لوگ انسانوں کو کھانا کھلاتے ہیں، وہ اپنے خون کی خصلت، تربیت کے اثر اور ایمان کی حرارت کی وجہ سے کھلاتے ہیں؛ ورنہ جس خالق نے زمین سے ان گنت چیزیں اگائی ہیں، وہ فرشتوں کی طرح انسانی پیٹ کو بھی بھوک سے آزاد رکھ سکتا تھا اور جب اس نے پرندوں کو بھوک دی تو یہ اصول بھی دیا کہ وہ روزانہ کا رزق کھاتے ہیں، کل کے لیے جمع نہیں کرتے۔
حضرت عیسیٰؑ اپنے شاگرد یوحنا کے ساتھ دریا کے کنارے جا رہے تھے۔ یوحنا کے پاس تھیلا دیکھ کر پوچھا کہ اس میں کیا ہے؟ یوحنا نے کہا کہ اس میں دو روٹیاں ہیں، ایک آج کے لیے اور ایک کل کے لیے۔ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا: "اے یوحنا! تم نے توکل کے معاملے میں خود کو پرندوں سے بھی نیچے گرا لیا۔ ایک روٹی رکھو اور دوسری صدقہ کر دو، آج کا رزق آج کھاؤ اور کل کے لیے بچا کر نہ رکھو، کل کا رزق کل ملے گا۔”
اس ملک کے غریب اور مڈل کلاس لوگ جمع نہیں کر پاتے اور جمع کرنے والے سستا کھانے نہیں دیتے۔ ذخیرہ اندوزی اصل میں بھوکے پیٹوں سے چھینی ہوئی خوراک کا وہ گودام ہے جو حرام خور انسان کی ہوس کا پیٹ بھرتا ہے۔ بھوک سے سسکتے لوگوں کے سامنے مہنگے راشن کو انسانی مجبوری بنا کر بیچنے کے پیچھے نالائق اور صاحبِ اختیار لوگ ہیں۔ عوامی ضرورتوں کی ملز، فیکٹریاں اور کارخانے سیاست دانوں کے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ حکومتیں مصنوعی مہنگائی پر انہیں نہیں پکڑتیں، بلکہ چھوٹے دکانداروں پر بلاجواز جرمانے کر کے بددعائیں لیتی ہیں۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "کوئی چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دو، اور اگر روٹی کے لیے چوری کرے تو حکمرانوں کے ہاتھ کاٹ دو؛ کیونکہ روٹی کا چور، چور نہیں ہوتا بلکہ مجبور ہوتا ہے۔” روزِ قیامت جب جرموں کی کتاب کھلے گی تو ان کی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں گی۔ ناچاہتے ہوئے کیے جانے والے عوامی جرموں کے پیچھے احمق و ظالم حکمرانوں کی انسانیت دشمن پالیسیاں، قانون سازیاں، زبردستی کے ناجائز ٹیکس اور سودی قرضوں جیسے فیصلوں کا ہاتھ نکلے گا۔
لاکھوں عام انسانوں کی بھوک اتنی بھیانک نہیں ہوتی جتنی چند حکمرانوں کی بھوک ہے جو لاکھوں انسانوں کو نگل جاتی ہے۔ حالات سے تنگ عوام کی خودکشیوں کے پیچھے قاتل حکمران ہی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری اور مہنگائی زمین پر ظالم حکمرانوں کا عذاب ہیں۔ خدا کا نظام بغیر کسی کوتاہی کے انسانوں کے لیے مفت چل رہا ہے—پانی، ہوا، سورج اور چاند سب قائم ہیں۔ لیکن جب انسان کی خطائیں بڑھتی ہیں تو خدائی ناراضگی کے مناظر سامنے آتے ہیں۔
ماضی میں بھی جب لوگوں نے خدا کے سامنے توبہ و معافی مانگی اور دعا کی کہ "اے خدا! اگر ہماری خطائیں تیری رحمت سے زیادہ ہیں تو ہمیں مٹا دے، اور اگر تیری رحمت زیادہ ہے تو زندگی کی بہاریں لوٹا دے”، تو خدا کی رحمت اس کے غصے پر غالب آئی اور دلوں پر شادابی اتر آئی۔
آج غریب و شریف انسانیت اپنے حقوق کے حصول کے لیے یہی دعا مانگتی ہے کہ اس ملک کے نظام کو کنٹرول کرنے والوں کے دلوں کو خدا اپنی ہدایت سے کنٹرول کرے اور ہماری خوشحالی لوٹا دے، آمین ثم آمین۔
