گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کا قیام ہے اور کچے کے علاقوں میں پائیدار امن کے لیے حساس اداروں، رینجرز اور سندھ پولیس کو مکمل تعاون فراہم کیا گیا ہے۔ حکومت کچے کے رہائشیوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے رونتی کچے میں تین روزہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اسپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد، ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب پٹھان، ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، ونگ کمانڈر رینجرز فرحان علی، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نثار احمد چانڈیو، مختلف محکموں کے افسران اور کچے کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ریاست ماں کی حیثیت رکھتی ہے اور حکومت کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتی۔ کچے کے رہائشی ان کے لیے اہم ہیں اور حکومت کو صرف ان عناصر سے اختلاف ہے جو ظلم کرتے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون شکنی کرنے والوں کو ریاست برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے سکھر میں اجلاس منعقد کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا، جس کے بعد سرینڈر پالیسی شروع کی گئی۔ اس پالیسی پر تنقید بھی ہوئی، تاہم ان کے بقول آج رونتی جیسے کچے کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس عمل میں محکمہ داخلہ سے متعلق قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن فریال تالپور اور وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پولیس کی حوصلہ افزائی اور سہولیات کی فراہمی کو بھی سراہا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کچے کے علاقوں میں اسکول، ڈسپنسریاں اور مویشیوں کے اسپتال قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ سیلاب کے دوران بھی ان عمارتوں کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ کچے کے علاقوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرکے مستقبل میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جیسے عہدوں تک پہنچیں۔ اس مقصد کے لیے مقامی آبادی کو اپنے حالات بہتر بنانے اور امن برقرار رکھنے میں ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی لڑائی اور قانون شکنی کرے گا تو حکومت بھی اس کا مقابلہ کرے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے گھوٹکی۔کندھ کوٹ پل کی تعمیر جلد مکمل ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں اضلاع کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا اور علاقے میں خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کچے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے والے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے پولیس افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کچے میں امن قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ قبائلی تنازعات کا سامنا کرنے والے مختلف قبائل کے افراد اب ایک ساتھ بیٹھ رہے ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے طاقت کے استعمال کے ساتھ محبت اور باہمی اعتماد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ کچے میں آباد قبائل کو ایک دوسرے کے حقوق اور مفادات کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ باہمی تنازعات سے نہ صرف ان کی زمینیں متاثر ہوں گی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے مزید کہا کہ کچے میں مستقل امن کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ جہاں سختی کی ضرورت ہوگی، وہاں قانون کے مطابق سختی بھی کی جائے گی، جبکہ علاقے کو سرسبز و شاداب بنانے اور مقامی آبادی کے حالات بہتر کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
تقریب کے دوران وزیر داخلہ سندھ نے کچے میں امن کے لیے نکالے گئے امن قافلے میں شامل خواتین شگفتہ، رامین اور انجم کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں پھولوں کے تحائف پیش کیے۔ تین روزہ اسپورٹس فیسٹیول کے دوران ملاکھڑا، کبڈی اور دیگر روایتی کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات، شیلڈز اور میڈلز بھی تقسیم کیے گئے۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد نے استقبالیہ خطاب میں بتایا کہ سندھ حکومت کی پالیسی کے مطابق کچے میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ابتدائی طور پر دو پرائمری اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ علاقے کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً میڈیکل کیمپ بھی لگائے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے کہا کہ سندھ حکومت کی ہدایات کے مطابق کچے میں امن کے قیام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں پولیس نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق مقامی لوگوں نے بھی امن قافلے نکال کر تعاون کیا، جس سے علاقے میں صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملی۔
