ہولبورن ضمنی الیکشن: لیبر کی ساگل عبدی-والی نے گرین لیڈر کو شکست دی

لندن (کیو این این ورلڈ) سابق برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے پارلیمانی حلقے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس میں 8 اکتوبر 2026 کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں لیبر پارٹی کی امیدوار ساگل عبدی-والی نے واضح کامیابی حاصل کر لی۔ انہوں نے 12,292 ووٹ حاصل کیے جو کل ووٹوں کا تقریباً 45 فیصد بنتا ہے۔ دوسرے نمبر پر گرین پارٹی کے لیڈر زیک پولانسکی 8,928 ووٹوں کے ساتھ رہے جبکہ کنزرویٹیو امیدوار ایوان کیمرون تیسرے اور ریفارم یو کے چوتھے نمبر پر رہے۔ لیبر کی اکثریت پچھلے جنرل الیکشن کے مقابلے میں کم ہو کر 3,364 ووٹ رہ گئی تاہم پارٹی نے اپنی روایتی گڑھ کو برقرار رکھا۔ ٹرن آؤٹ تقریباً 38.8 فیصد رہا۔

یہ نشست اس وقت خالی ہوئی جب سر کیئر اسٹارمر نے ستمبر 2026 میں ایم پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اسٹارمر اس سے قبل جولائی 2026 میں لیبر پارٹی کے اندرونی بحران اور مقامی الیکشن کے خراب نتائج کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹ چکے تھے اور بعد میں انہوں نے بین الاقوامی امور پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس 1983 سے لیبر پارٹی کی مضبوط نشست رہی ہے جہاں اسٹارمر 2015 سے نمائندگی کر رہے تھے۔

فاتح امیدوار ساگل عبدی-والی 42 سالہ ہیں اور صومالیہ نژاد ہیں۔ وہ 1990 کی دہائی میں بچپن میں جنگ زدہ صومالیہ سے پناہ گزین بن کر برطانیہ آئی تھیں اور کیمڈن میں پلی بڑھیں۔ انہوں نے کیمڈن کونسل میں ہاؤسنگ آفیسر کے طور پر کام کیا، 2022 میں کونسلر منتخب ہوئیں اور مئی 2026 میں کونسل کی لیڈر بنیں۔ وہ پہلی برطانوی-صومالی خاتون ہیں جو برطانوی پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ عبدی-والی پریکٹس کرنے والی مسلمان ہیں اور حجاب پہنتی ہیں۔ کامیابی کے بعد انہوں نے کہا کہ حلقے کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اعزاز ہے اور یہاں کے عوام امید کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ہاؤسنگ، بے گھری اور مقامی مسائل کو اپنی ترجیح قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم اسٹارمر اور موجودہ وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بھی انہیں مبارکباد دی۔

اس الیکشن میں گرین پارٹی نے مضبوط چیلنج دیا تھا اور ان کے لیڈر زیک پولانسکی کی قیادت پر شکست کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ریفارم یو کے کے کچھ رہنماؤں نے عبدی-والی کی صومالی اصل پر تنقید کی تھی جسے نسل پرستی قرار دیا گیا۔ یہ نتیجہ لیبر حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی آزمائش تھا جو انہوں نے کامیابی سے عبور کر لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے