پشاور (کیو این این ورلڈ): پاک افغان جائنٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سبکدوش ہونے والے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ میں ہمیشہ اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، تاہم متعدد رکاوٹوں کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم کم ہو کر نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے پاک افغان جائنٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 12ویں سالانہ جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پاک افغان باہمی تجارت، زمینی تجارت میں درپیش مشکلات، کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پاک افغان جائنٹ چیمبر کے نو منتخب سینئر نائب صدر انجینئر سید محمود، نائب صدر عبدالغفار، چیمبر کے ڈائریکٹر فاروق احمد، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور نو منتخب ایگزیکٹو ممبر شاہد حسین نے شرکت کی۔
اس موقع پر پی اے جے سی سی آئی کے چیئرمین زبیر موتی والا، نو منتخب صدر جاوید بلوانی اور سبکدوش ہونے والے صدر جنید مکڈا نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید الطاف، سینئر نائب صدر محمد ندیم اور نائب صدر صابر احمد بنگش بھی موجود تھے۔
ضیاء الحق سرحدی نے اجلاس کے شرکاء کو افغانستان کے ساتھ زمینی تجارت کے شعبے میں جاری پیش رفت، کاروباری برادری کو درپیش مختلف رکاوٹوں اور ان اہم وجوہات سے آگاہ کیا جن کے باعث پاک افغان باہمی تجارت کا حجم کم ترین سطح تک پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے سے نہ صرف دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور معاشی روابط کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرحدی تجارت سے متعلق مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل ضروری ہے۔
ضیاء الحق سرحدی نے پی اے جے سی سی آئی کے چیئرمین زبیر موتی والا، سبکدوش ہونے والے صدر جنید مکڈا اور نائب صدر پرویز لالہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاک افغان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے، دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور تاجروں کو درپیش اہم مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ زبیر موتی والا کی قیادت تاجروں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں ان کا کردار اہم رہا ہے۔
انہوں نے زبیر موتی والا کی جانب سے اپنے پلیٹ فارم اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے اعلیٰ حکومتی قیادت کے سامنے تجارت اور ٹرانزٹ سے متعلق تاجروں کے خدشات براہِ راست اٹھانے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے فروغ میں معاونت کرنے کو بھی سراہا۔
اجلاس سے قبل شرکاء نے پاک افغان باہمی تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران سرحد کے دونوں اطراف کاروباری برادری کو درپیش رکاوٹوں اور مسائل کا جائزہ لیا گیا اور تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے کاروباری برادری کے مسائل کے حل، سرحدی گزرگاہوں پر سہولیات میں بہتری اور تجارت و ٹرانزٹ سے متعلق معاملات کو آسان بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
اجلاس میں پی اے جے سی سی آئی پاکستان چیپٹر کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد بھی پیش کی گئی اور امید ظاہر کی گئی کہ نئی قیادت دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
