ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیوروچیف احسان اللہ ایاز) تھانہ مانگٹانوالہ میں اپنے عہدے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، قانونی کارروائی میں بے ضابطگیوں اور ایک شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے سنگین الزامات کے تحت سابق ایس ایچ او اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت دیگر پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
موجودہ ایس ایچ او رائے محمد ارشد کی مدعیت میں تھانہ مانگٹانوالہ میں مقدمہ نمبر 969/26 درج کر لیا گیا ہے، جس میں پولیس آرڈر 2002 کی دفعات 155C، 156C اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 342 شامل کی گئی ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق سابقہ مقدمہ نمبر 589/26 کے نامزد ملزم عبدالسلام کو اے ایس آئی حمید اللہ خان نے گرفتار کر کے عدالت سے 2 روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا، تاہم وقوعہ کے مشکوک اور خود ساختہ ہونے کے باوجود ملزم کو قانونی جواز اور تصدیق کے بغیر دو دن تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
ڈی ایس پی لیگل ننکانہ کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اے ایس آئی حمید اللہ خان نے مدعی مقدمہ سے ساز باز کر کے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا، جبکہ سابق ایس ایچ او انسپکٹر کفایت حسین نے بھی بغیر کسی قانونی تصدیق کے چالان پر دستخط کر کے ملزم کو جیل بھجوا دیا۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد تمام متعلقہ ریکارڈ مزید قانونی کارروائی کے لیے انچارج انویسٹی گیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔