گریٹ جنرل محمد ایوب خان
تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
صدر محمد ایوب خان 14 مئی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک اسکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں کاہل پائیں میں بھی حاصل کی جو ان کے گھر سے 5 میل کے فاصلے پر تھا۔
آپ نے 1922 میں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران میں آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا۔ آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14 پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو اب 5 پنجاب رجمنٹ ہے۔
جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی، اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو برگیڈئر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔
1949 میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ 17 جنوری 1951 کو آپ پاکستانی فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنے۔ 1954 میں جب محمد علی بوگرہ نے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں میجر اسکندر مرزا اور پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ آپ 24 اکتوبر 1954 سے 11 اگست 1955 تک محمد علی بوگرہ کے دور میں حاضر سروس فوجی ہوتے ہوئے بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ دنیا کی واحد مثال ہے کہ سول حکومت کا وزیر دفاع حاضر سروس فوجی ہو۔
جب اسکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958 میں مارشل لا لگایا تو آپ کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا۔ 24 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دیے گئے لیکن صدر اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنا پر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گئے اور فقط 3 دن بعد 27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنبھال لی اور اسکندر مرزا کو معزول کر دیا۔
جنرل ایوب خان نے خود کو 27 اکتوبر 1958 کو صدرِ پاکستان نامزد کر دیا مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ، "میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہو کر تمام اختیارات مجھے سونپ دیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں”۔
27 اکتوبر 1959 کو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کر دیا گیا۔ 17 فروری 1960 کو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ ایوب خان نے 1961 میں آئین بنوایا جو صدارتی طرز کا تھا۔
02 جنوری 1965 کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو قائد اعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں انتخابات کے دوران دھاندلی کا آغاز تھا۔
06 ستمبر 1965 کو جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہو گئی۔ 10 جنوری 1966 کو تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔
1965 کی جنگ کی وجہ سے ایوب خان کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے تھے۔ تاشقند معاہدے سے واپسی پر اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ملک کی عزت اور قربانی بیچ ڈالی۔ اس بیان کے بعد بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی اور ایوب خان کی مذہبی، معاشی اور عوامی پالیسیز پر شدید تنقید شروع کر دی۔ ਭٹو کی تحریک کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب الرحمن کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی۔ ایوب خان نے بھٹو اور شیخ مجیب کو پابند سلاسل کر دیا۔ اس سے ایوب خان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا۔
1968 میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئے اور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کر دیا۔ ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہوا۔ 1968 میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ اس دوران ایوب خان کو دل کا دورہ لاحق ہوا اور اسی سال ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا اور وہ صاحب فراش ہو گئے۔ انہیں ویل چیئر پر لایا جاتا تھا۔
جنرل محمد ایوب خان پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
یہ وہ شخص تھا جس نے صرف دس سال میں یہ سب کچھ کر دکھایا:
انہوں نے کروڑوں روپے خرچ کر کے ساری بادشاہی مسجد مرمت کرائی اور میناروں پر سنگ مر مر کے سفید گنبد بنوائے، مسجد کا مین دروازہ اور شاندار سیڑھیاں بنوا کر مسجد کو دیدہ زیب بنا دیا۔ چوبرجی لاہور کے تین مینار تھے اور کھنڈر پڑی تھی۔ چوتھا مینار اور ساری عمارت کو مرمت کرا کر اس کی عظمت بحال کی۔ لاہور کا شالامار باغ ویران پڑا تھا۔ عمارت برباد تھی اور راہ داریاں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور فوارے کام نہیں کرتے تھے بلکہ سارا باغ ہی ویران پڑا تھا، انہوں نے شالامار باغ کو از سر نو مرمت کروایا اس وقت سے لوگ اسے بطور سیر گاہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے قرار داد پاکستان کی جگہ عالیشان مینار پاکستان تعمیر کروایا تھا۔
یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کا دارلحکومت کراچی سے لا کر پہاڑوں کے بیچ اسلام آباد جیسی محفوظ جگہ پر بنوایا اور خوبصورت سرکاری عمارتیں تعمیر کرائیں۔ جس نے پاکستان کو خوراک میں خود کفیل بنانے کے لیے سارے پاکستان میں اشتمال اراضیات کرایا اور لوگوں کی بکھری زمینیں یکجا کرا دیں۔ انہوں نے فیصل آباد میں زرعی تجربات کے لیے 100 ایکڑ رقبے پر زرعی یونیورسٹی قائم کی۔
جس نے آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پہلے ورسک ڈیم بنوایا، پھر منگلا اور تربیلا ڈیم بنوائے۔ جنرل ایوب خان نے مستقبل میں پنجاب یونیورسٹی کی ضرورتوں کو محسوس کر کے اسے نیو کیمپس کے لیے نہر کے دونوں طرف 27 مربع زمین الاٹ کر کے وہاں پر عمارات بنوا دیں۔ جس نے دریائے راوی، چناب، جہلم اور اٹک پر نئے پل تعمیر کرائے اور سکھر میں دریائے سندھ پر ریلوے پل کے ساتھ اتنے چوڑے دریا پر بغیر ستونوں کے شاندار معلق پل بنوایا۔
ایوب خان نے کراچی سے حیدر آباد تک 100 میل لمبی شارٹ کٹ سپر ہائی وے تعمیر کرائی۔ جس نے ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور پہاڑوں کے اندر ٹینک فیکٹری لگوائی جو خالد ٹینک تیار کرتی ہے۔ جنرل ایوب نے رسالپور میں ریلوے انجن بنانے کی فیکٹری لگوائی۔ جس نے اسلام آباد میں ریلوے کی بوگیاں تیار کرنے کی فیکٹری لگوائی۔ جس کی پالیسییوں سے لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری لگی۔ انہوں نے فیصل آباد میں کئی ایکڑ رقبے پر ٹیکسٹائل یونیورسٹی بنوا دی۔
جس نے مستقبل میں تیل کی مہنگائی اور نایابی کو بھانپ کر لاہور سے خانیوال تک تجرباتی طور پر الیکٹرک ٹرین چلائی تھی جس کی ہمارے لوگ تاریں تو کیا پول بھی بیچ کر کھا گئے ہیں۔
1952 میں گوادر حکومت مسقط کا حصہ تھا، کرنسی انڈیا کی اور پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف پاکستان کا تھا۔ جنرل ایوب خان نے گوادر کا علاقہ مسقط سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔ پاکستان کی گوادر بندر گاہ اب پاک چین کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک کیلئے راہداری کا باعث بنی ہے۔
انہوں نے مشرقی پاکستان میں بھی چائے تیار کرنے کے کارخانے اور بانس سے کاغذ تیار کرنے کی بہت بڑی کرنا فلی پیپر مل لگوائی تھی اس کے علاوہ پٹسن سے کپڑا اور بوریاں تیار کرنے کی بڑی بڑی جوٹ ملیں لگوائیں اور لاکھوں مچھیروں کی کشتیوں میں انجن فٹ کروا دیئے تاکہ انہیں سمندر میں دور تک جا کر مچھلیاں پکڑنے میں آسانی ہو۔
یہ وہ شخص تھا جس کے استقبال کے لیے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اپنی اہلیہ کے ہمراہ خود ائیر پورٹ پر موجود تھا۔
ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف احتجاج نے خانہ جنگی سی صورت حال پیدا کر دی۔ پولیس کے لیے بلوائیوں کو روکنا مشکل ہو گیا اور بالآخر ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو اپنے عہدے سے استعفا دے دیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحی خان کو ملک کا صدر بنا دیا اور خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔
حالانکہ ایوب خان کے دور میں چینی صرف 4 آنے مہنگی ہوئی تھی اور ایوب خان کے خلاف "ایوب کتا ہائے ہائے” کے نعرے لگ گئے تھے۔ پھر بعد میں عوام نے ایوب خان کو دوبارہ سیاست میں لانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں کتا ہوں اور اس طرح انہوں نے سیاست میں آنے سے انکار کر دیا۔
لیکن ہمارے لالچی لوگوں نے ان جھوٹے سیاستدانوں کے جھوٹے الزامات پر اسے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی کیونکہ وہ بہرحال ایک انسان تھا، لیکن جس شخص نے پاکستان کیلئے یہ سارا کچھ کیا آج یہ احسان فراموش سیاستدان اس کا نام لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس شخص کا نام تھا گریٹ جنرل محمد ایوب خان۔ اللہ درجات بلند فرمائے۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 20 اپریل 1974 کو اسلام آباد میں وفات پا گئے، انہیں ان کے آبائی گاؤں ریحانہ میں ہی ان کی والدہ کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔
ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری "فرینڈز ناٹ ماسٹرز” کے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ "جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی "ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان” کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔