اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی

سرحد یونیورسٹی سانحہ
از قلم: عصمت اسامہ
اساتذہ کرام معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سرحد یونیورسٹی میں ایک خاتون ٹیچر (ڈاکٹر عینا) کے ساتھ طلبہ کے ہجوم نے بدتمیزی کی اور انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ خواتین اساتذہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہیں، ان کے طلبہ ہی اگر جسمانی ہراسمنٹ پر اتر آتے ہیں تو پھر ہمیں ایسی نوجوان نسل پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہئیے۔ وہ خاتون ٹیچر جیسے اتنے مرد طلبہ میں گھری ہوئی اور خوفزدہ نظر آرہی ہیں، ایک لمحے کے لیے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ وہاں ہماری بہن، بیٹی یا ماں ہوتی تو ہمارا ردعمل کیا ہوتا؟ اگر طالب علم اپنی ٹیچر کو دھکے مار رہے ہیں اور زمین پر گرا رہے ہیں تو ایسی حالت میں وہ اپنے شوہر کو ہی پکارے گی، اس کے پاس اپنی عزت کی حفاظت کا اور کیا چارہ ہے؟

سلام ہے اس شوہر پر جو نہ صرف تنہا اس ہجوم میں آیا بلکہ اپنی اہلیہ کو بچا لے گیا۔ اس نے وہی کیا جو اس کا فرض تھا اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ کسی کی جان اور آبرو خطرے میں ہو تو وہ گھر جا کے لباس تبدیل نہیں کرے گا بلکہ جس یونیفارم یا لباس میں ہوگا، اپنی بیوی کو ہجوم سے بچانے کے لیے فوراً بھاگے گا۔ جو لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ ٹیچر کا شوہر فوجی وردی میں کیوں آیا، ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے!

فوٹیج سے صاف ظاہر ہے کہ طلبہ کے ہجوم نے کرنل صاحب کو بھی گھیرے میں لے کر حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑنے کی کوشش کی (اس وقت بھی کرنل صاحب نے اپنے حواس سلامت رکھے اور صرف ہوائی فائر کیا)۔ افواجِ پاکستان کی وردی ریاستِ پاکستان کی نمائندگی کرتی ہے، وہ وردی جو وطن کا محافظ اپنی قوم کی حفاظت کے لیے پہنتا ہے، نعرہء تکبیر لگا کے اسی وردی میں شہید ہوتا ہے؛ اس کے تقدس کی قسم، اسے پھاڑنے والے کبھی خدائی قہر سے بچ نہیں سکتے!

جس طرح مشتعل طلبہ کے گروہ نے اپنی ٹیچر کو جسمانی طور پر ہراساں کیا، وہ جین زی میں انتہائی خطرناک رجحان کا الارم ہے کہ اسے مشتعل کر کے کسی بھی اخلاقی یا نفسیاتی حد پار کروائی جا سکتی ہے (ان طلبہ کے پیچھے جرائم یافتہ تنظیموں کا ہاتھ محسوس ہوتا ہے)۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئیے کہ ایسے طالب علموں کو نہ صرف یونیورسٹی سے خارج کرے بلکہ قانونی کارروائی کر کے سزا سنائی جائے۔ واقعے کی فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک اسکرپٹڈ واقعہ تھا جس کی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واقعے کی تحقیقات کی بات کی ہے۔

تنازعہ جو بھی ہو، عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اس سانحہ سے قبل یونیورسٹی کے جو حالات تھے ان کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے، ورنہ اگر تعلیمی اداروں کے ایسے ہی حالات رہے اور ماؤں بہنوں کی عزت و ناموس پر علی الاعلان حملے ہوتے رہے تو پھر نہ خواتین طالبات پڑھنے جائیں گی اور نہ اساتذہ پڑھانے جائیں گی۔ جب خواتین اپنی حرمت کی خاطر حالتِ خوف میں اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں گی تو اگلی نسل اس سے زیادہ جاہل اور جارح پیدا ہوگی، سوچیں!

خدارا اپنی آنکھیں کھولیں، دیوار پر لکھا نوشتہ پڑھیں اور اپنی سوچ کو حقیقت کی کسوٹی پر رکھ کے پرکھیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مجرم جو بھی ہو، چھوٹا ہو یا بڑا ہو، عدالت عدل پر مبنی فیصلہ سنائے۔ مائیں، بہنیں، بیٹیاں ہر گھر کی زینت ہیں، ان کی عزت پر آنچ نہ آنے دی جائے کہ مومن کی جان و آبرو خانہ کعبہ سے زیادہ حرمت رکھتی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے