لاہور (کیو این این ورلڈ): مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور گڈز ٹرانسپورٹ کے بڑھتے کرایوں کے باعث لاہور میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دکانداروں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں 100 سے 150 روپے فی کلو تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ پھلوں کی پیٹیوں کی قیمت بھی ایک ہزار سے 2 ہزار روپے تک بڑھ گئی ہے۔
دکانداروں کے مطابق کدو کی قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو، گوبھی 150 سے بڑھ کر 220 روپے، بند گوبھی 150 سے بڑھ کر 250 روپے جبکہ میتھی کی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔
اسی طرح شملہ مرچ کی قیمت 300 سے بڑھ کر 350 روپے فی کلو، پیاز 120 سے بڑھ کر 200 روپے جبکہ ٹماٹر کی قیمت 200 سے بڑھ کر 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
دکانداروں نے پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آڑو کا 6 کلو کا کارٹن 950 روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سیب کی پیٹی کی قیمت 2 ہزار سے بڑھ کر 3 ہزار روپے ہوگئی ہے۔
دکانداروں کے مطابق آم کی پیٹی 3 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 ہزار روپے جبکہ انگور کی پیٹی کی قیمت 4 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 5 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منڈی میں ہی سبزیاں اور پھل مہنگے داموں دستیاب ہیں، جس کے باعث انہیں بھی زیادہ قیمت پر فروخت کرنا پڑ رہے ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب منڈیوں تک سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں گے اور اس کے نتیجے میں سبزیوں، پھلوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر کر رکھا ہے، ایسے میں روزمرہ استعمال کی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔