میرا پاکستان، میری ذمہ داری

میرا پاکستان، میری ذمہ داری
تحریر: نصیب شاہ شینواری

پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ 14 اگست 1947 پردنیا کے نقشہ پر ایک مسلمان ملک کے طور پر نمودار ہونے کا یہ ہمارے خوابوں، امیدوں، قربانیوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا نام ہے۔

پاکستان کی 79ویں جشن آزادی کے موقع پر کچھ لکھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔

یہ وہ مملکتِ خداداد ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے- قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ چاروں موسم، بلند و بالا پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، زرخیز میدان، دریا، سمندر، معدنی وسائل، جنگلات اور وسیع قدرتی ذخائر اس ملک کی خوبصورتی اور دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ملک سمندر اور خشکی دونوں کے ذرئعے دنیا کے مختلف ممالک سے ملا ہوا ہے اور اہم انہی ممالک کے ساتھ بہترین روابط اور تعلقات استوار کرکے اپنے ملک کی اقتصاد کو بلندیوں تو لے جاسکتے ہے۔

14 اگست ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ ایک عظیم جدوجہد، قربانیوں اور ایک بہتر مستقبل کے خواب کا نتیجہ تھا-

ہمارے بزرگوں نے اپنی جان و مال، گھر بار اور آسائشیں قربان کیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد وطن میں عزت، امن اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

لیکن آج، جشنِ آزادی کے موقع پر ہمیں صرف سبز ہلالی پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہمیں خود سے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ:

کیا ہم نے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟

میرا پاکستان ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟

پاکستان کے لئے اپنی ذمہ داری جذبہ ایمان سے ادا کرنا صرف حکومت، سیاست دانوں، اداروں یا فوج کی نہیں بلکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم سب پاکستان کے لئے عملی کام کریں اور اس کی ترقی، خوشحالی اور استحکام میں ہر شہری بھرپور جذبہ کے ساتھ اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

ایک طالب علم، استاد، ڈاکٹر، صحافی، مزدور، تاجر، کسان، سرکاری ملازم اور عام شہری سب اپنی اپنی جگہ پاکستان کی تعمیر میں حصہ ڈال سکتے ہیں اوراس مملکت خداداد کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

ایک ذمہ دار شہری سب سے پہلے قانون کا احترام کرتا ہے۔ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتا ہے، سرکاری و قومی املاک کی حفاظت کرتا ہے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کرتا ہے- وہ یہ نہیں سوچتا کہ ملک نے مجھے کیا دیا، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ میں نے اپنے ملک کے لیے کیا کیا؟

ہماری ایک بڑی ذمہ داری تعلیم کے فروغ کی ہے۔ کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ ہمیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا ہوگا، ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی اور خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے کیونکہ آج کا تعلیم یافتہ بچہ ہی کل کا ذمہ دار شہری، ماہرتعلیم، سائنس دان، استاد، ڈاکٹر، انجینئر اور رہنما بنے گا۔

تعلیم کی میدان میں متعلقہ حکام اور اداروں کو ایک بھرپور اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کے دور دراز اور خاص کر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبایلی اضلاع میں سکولوں اور کالجوں پر خاص توجہ دینی کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے قبایلی اضلاع وہ علاقے ہیں جو قدرتی وسایل کے ساتھ ساتھ انسانی وسایل سے بھی مالا مال ہے،یہاں کے نوجوانان بہترین ذہنی اور جسمانی استعداد اور صلاحتیوں سے مالامال ہیں۔

یہی وہ علاقے ہیں جس نے اس ملک کے قومی سپورٹس ٹیموں و دیگر سیکٹرز میں بڑے بڑے کھلاڑی، دانشور، ادیب، لکھاری اور سرمایہ کار دیے۔

اگر ان اضلاع میں پرایمری لیول سے کالج لیول تک تعلیمی اداروں میں بہترین سہولیات فراہم کی جایں تو یہ علاقہ اس ملک کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ہمیں اپنے ماحول کی حفاظت بھی کرنی ہوگی۔ سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں کچرا پھینکنا، درخت کاٹنا، پانی ضائع کرنا اور قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال کرنا کسی ذمہ دار شہری کا رویہ نہیں ہوسکتا بلکہ ایک ذمہ دار شہری ان تمام چیزوں کا حفاظت کرتا ہے۔

پاکستان کا خوبصورت ماحول ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اگر آج ہم نے اس امانت کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

ایک ذمہ دار پاکستان شہری ہونے کا ثبوت پیش کرتے وقت ہمیں معاشرے سے نفرت، تعصب، عدم برداشت اور تشدد کے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، قومیتوں اور علاقوں کا خوبصورت امتزاج ہے۔ یہی تنوع ہماری طاقت ہے، کمزوری نہیں- ہمیں ایک دوسرے کے عقائد، زبان، ثقافت اور شناخت کا احترام کرنا چاہیے،اگر ہم اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان دنیا کا ایک طاقتور ملک کی طور پر سامنے ایں گا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حب الوطنی صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کا نام نہیں۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم اپنے کام کو ایمانداری سے کریں۔ استاد اپنے شاگردوں کو دیانت داری سے تعلیم دے، ڈاکٹر مریض کا فرض سمجھ کر علاج کرے، تاجر ملاوٹ سے بچے، مزدور محنت سے کام کرے، صحافی سچ کو ذمہ داری سے سامنے لائے اور سرکاری ملازم عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھے-

اگر ہم اپنے اپنے شعبے میں ایمانداری اختیار کرلیں تو پاکستان کی ترقی کی بنیاد مضبوط ہوجائے گی۔

ہمیں بدعنوانی کے خلاف بھی اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ رشوت دینا اور لینا، سفارش کے ذریعے حق دار کا حق مارنا، سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانا صرف کسی ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

آج پاکستان کو صرف بڑے منصوبوں کی نہیں بلکہ ذمہ دار شہریوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایک ذمہ دار شہری ہی اس ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔

ہم اکثر حکومت سے سڑکیں، اسپتال، اسکول، بجلی، پانی اور روزگار کا مطالبہ کرتے ہیں، اور یہ ہمارے بنیادی حقوق بھی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان سہولیات کی حفاظت اور درست استعمال ہماری ذمہ داری ہے۔ نئی سڑک بننے کے بعد اس پر تجاوزات قائم کرنا، پارک بننے کے بعد اسے گندہ کرنا، اسکول تعمیر ہونے کے باوجود بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا اور اسپتال کی سہولیات کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ ہمیں ان غیرقانونی اورنامناسب کاموں اور رویوں کو ترک کرنا ہوگا۔

پاکستان کی تعمیر صرف اسلام آباد، لاہور، کراچی یا پشاور میں نہیں ہونی۔ پاکستان کی حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب لنڈی کوتل، خیبر، باڑہ، تیراہ، وزیرستان، باجوڑ، چترال اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کے بچے بھی وہی تعلیمی، صحت اور روزگار کے مواقع حاصل کریں گے جو ملک کے بڑے شہروں میں رہنے والے بچوں کو میسر ہیں۔

ہمیں اپنے پسماندہ علاقوں کو بھی پاکستان کی ترقی کے سفر میں برابر کا شریک بنانا ہوگا، ہم سب کو، ہمارے سب حکومتی اداروں کو بھی ملکی قدرتی وسایل و دیگر وسایل کی منصفانہ تقسیم کرنی ہوگی، اگر وسایل منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو تو پھر اس ملک کو ترقی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا ہے۔

ایک اور اہم ذمہ داری ووٹ کے استعمال کی ہے۔ جمہوریت میں ووٹ ایک قومی امانت ہے۔ ہمیں ذات، برادری، علاقائی وابستگی یا وقتی مفاد کے بجائے میرٹ، کردار، اہلیت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اچھے نمائندوں کا انتخاب بھی ایک ذمہ دار شہری کی ذمہ داری ہے۔

میرا پاکستان ہم سے یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں۔ سیاست ہو یا سماج، ہر انسان کو اپنی رائے قایم رکھنے کا حق ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی بات سننے، دلیل سے اختلاف کرنے اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط قومیں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کو صرف ایک حکومت یا ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشترکہ امانت کے طور پر دیکھیں-

یہ ملک ہمارے بزرگوں نے قربانیوں سے حاصل کیا، ہمیں ورثے میں ملا اور اب ہمیں اسے آنے والی نسلوں کے حوالے کرنا ہے۔

یہاں ایک سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں؟

ایک ایسا پاکستان جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو؟
جہاں بچوں کو معیاری تعلیم ملے؟
جہاں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں؟
جہاں خواتین محفوظ اور بااختیار ہوں؟
جہاں غریب کو انصاف ملے؟
جہاں سرکاری ادارے عوام کی خدمت کریں؟
جہاں ماحول صاف ہو اور قدرتی وسائل محفوظ ہوں؟
اور جہاں ہر شہری دوسرے شہری کے حقوق کا احترام کرے؟

اگر ہم ایسا ہی پاکستان چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہوگا-

ہم دوسروں سے ایمانداری کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود ایماندار بنیں اور
ہم حکومت سے صفائی کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنے گھر اور گلی، شہروں کو خود صاف رکھیں۔
ہم قانون کی بالادستی کی بات کرنے سے پہلے خود قانون کی پابندی کریں۔
ہم تعلیم کی اہمیت بیان کرنے سے پہلے اپنے بچوں کو تعلیم دیں۔
ہم ملک کی ترقی کی خواہش کرنے سے پہلے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں۔

کیونکہ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں بنتیں، ذمہ دار شہریوں سے بنتی ہیں۔

آئیے اس یومِ آزادی پر ہم صرف پرچم نہ لہرائیں بلکہ اپنے دلوں میں ایک عہد بھی لہرائیں۔

ہم عہد کریں کہ پاکستان کو صاف رکھیں گے۔
ہم عہد کریں کہ قانون کا احترام کریں گے۔
ہم عہد کریں کہ بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
ہم عہد کریں کہ تعلیم کو فروغ دیں گے۔
ہم عہد کریں کہ قومی املاک اور قدرتی وسائل کی حفاظت کریں گے۔
ہم عہد کریں کہ ایک دوسرے کے حقوق، زبان، ثقافت اور شناخت کا احترام کریں گے۔
اور سب سے بڑھ کر ہم عہد کریں کہ اپنے فرائض کو ایمانداری اور خلوص کے ساتھ ادا کریں گے۔

پاکستان صرف ہمارا وطن نہیں بلکہ یہ ہماری ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔

آج اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے کا فیصلہ کرلے تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب ہمارا پاکستان ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ ملک بن کر دنیا کے نقشے پر مزید روشن ہوگا۔

میرا پاکستان، میری ذمہ داری۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پایندی باد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے