اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار: حبیب خان):دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی مسلسل بڑھتی آمد اور اونچے درجے کے ممکنہ سیلاب کے خدشے کے باعث اوچ شریف، ہیڈ پنجند اور دریائی پٹی کے متعدد علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ ممکنہ خطرے کے پیش نظر مقامی آبادی نے نقل مکانی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جبکہ کاشتکار اپنی تیار اور نیم تیار فصلوں کی ہنگامی کٹائی میں مصروف ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے بعد سرور آباد، رتہرنہڑانوالی، ترنڈ بشارت، بکھری، کچی لعل، بیٹ بختیاری، چک کہیل، جاگیر صادق آباد اور دیگر درجنوں بستیوں میں ہنگامی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ متعدد خاندانوں نے قیمتی سامان، خوراک، چارہ اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ ممکنہ انخلا کی صورت میں استعمال کے لیے ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر ذرائع نقل و حمل بھی تیار رکھے گئے ہیں۔
ممکنہ سیلاب کے خطرے نے دریائی پٹی کے کسانوں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ لاکھوں روپے مالیت کی تل، کپاس، مکئی، چارہ اور دیگر موسمی فصلیں ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوئیں، تاہم زیرِ آب آنے کے خدشے کے باعث کاشتکار انہیں قبل از وقت کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ سکتی ہے، جس سے ان کی کئی ماہ کی محنت اور سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب متاثرہ کاشتکاروں نے شکایت کی ہے کہ بعض بیوپاری اور آڑھتی ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تل اور دیگر فصلوں کے انتہائی کم نرخ لگا رہے ہیں۔ ان کے مطابق قبل از وقت کٹائی کے باعث پیداوار میں کمی کا سامنا ہے جبکہ کم قیمت پر فروخت کی وجہ سے معاشی نقصان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث خواتین، بزرگوں اور بچوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے اور پورے علاقے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر دریائے چناب میں پانی کی آمد موجودہ رفتار سے بڑھتی رہی تو دریائی پٹی کی متعدد آبادیاں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں، مویشی اور مقامی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات، امدادی انتظامات اور متاثرہ آبادی کے انخلا کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔