جمرود (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار):ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) جمرود کی مؤثر اور غیرجانبدارانہ کوششوں کے نتیجے میں ایک دیرینہ زمینی تنازع خوش اسلوبی، باہمی رضامندی اور جرگہ روایات کے مطابق حل کر لیا گیا، جس پر دونوں فریقین نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق فریق اول ذیشان ولد گل شیر اور فریق دوم وارث خان ولد یاسین کے درمیان عرصہ دراز سے جاری زمینی تنازع ڈی آر سی جمرود کے سامنے پیش کیا گیا۔ کونسل کے اراکین نے دونوں فریقین کا مؤقف تفصیل سے سنا اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد باہمی مشاورت اور جرگہ روایات کی روشنی میں متفقہ فیصلہ مرتب کیا۔
ڈی آر سی کے جرگے میں طویل مشاورت کے بعد ایسا قابل قبول حل نکالا گیا جس پر دونوں فریقین نے رضامندی ظاہر کی۔ بعد ازاں فریقین نے خوش دلی سے صلح نامے پر دستخط کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ اس زمین کے معاملے پر کسی قسم کا دعویٰ، اعتراض یا اختلاف نہیں کریں گے۔
تنازع کے خوشگوار حل پر فریقین نے ڈی آر سی جمرود کے تمام اراکین، انچارج ڈی آر سی ایمل خان اور فاتح خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے اراکین نے مکمل غیرجانبداری، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کیا، جس سے نہ صرف ان کا دیرینہ تنازع ختم ہوا بلکہ باہمی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) خیبر وقار احمد نے ڈی آر سی جمرود کے اراکین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز عوامی مسائل کے پرامن حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی رضامندی، افہام و تفہیم اور جرگہ روایات کے ذریعے تنازعات کا حل معاشرے میں امن، بھائی چارے، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔
ڈی پی او خیبر نے مزید کہا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ عوامی تنازعات کو عدالتوں میں طویل مقدمات کی بجائے مقامی سطح پر باہمی اتفاق رائے سے حل کیا جائے تاکہ وقت، وسائل اور توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ہم آہنگی بھی برقرار رہے۔ انہوں نے ڈی آر سی اراکین کی خدمات کو قابل تقلید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ایسے فورمز کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی۔