ضلع خیبر میں لیشمینیا کے مریضوں کے لیے بڑی سہولت، جدید علاجی مشینیں فعال

لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/نصیب شاہ شینواری):ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال لنڈی کوتل میں جلدی بیماری لیشمینیا کے جدید اور مؤثر علاج کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) خیبر ڈاکٹر رفیق حیات کی خصوصی کاوشوں سے کروڑوں روپے مالیت کی جدید تھرمو میڈ (ThermoMed) اور کرائیوتھراپی (Cryotherapy) مشینیں نصب کر دی گئی ہیں جن کا باقاعدہ افتتاح بھی کر دیا گیا۔

افتتاحی تقریب میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈی کوتل ڈاکٹر جمیل احمد، ڈاکٹر غفور احمد، انچارج لیشمینیا پروگرام ڈاکٹر خالد داوڑ، ڈاکٹر ہارون، ڈاکٹر زین آفریدی سمیت ہسپتال کے دیگر طبی عملے نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈی ایچ او خیبر ڈاکٹر رفیق حیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید مشینوں کی تنصیب ضلع خیبر کے عوام کے لیے ایک بڑی طبی سہولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیشمینیا ایک پیچیدہ جلدی بیماری ہے اور ان جدید مشینوں کی بدولت مریضوں کو مقامی سطح پر جدید، معیاری اور مؤثر علاج کی سہولت میسر آئے گی، جس سے بیماری پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور مریضوں کو دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر رفیق حیات اور انچارج لیشمینیا ڈاکٹر خالد داوڑ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ جدید علاجی مشینوں کی فراہمی ایک اہم سنگ میل ہے، تاہم لیشمینیا کے مکمل اور مؤثر علاج کے لیے گلوکانٹائم (Glucantime) انجیکشن کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے مطالبہ کیا کہ گلوکانٹائم انجیکشن کی رجسٹریشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ یہ دوا ملک بھر میں دستیاب ہو سکے اور مریض بروقت علاج سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ضلع خیبر میں سال 2026 کے دوران اب تک لیشمینیا کے 1,859 فعال کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ سال 2025 میں مجموعی طور پر 2,368 کیسز سامنے آئے تھے۔ رواں سال تحصیل لنڈی کوتل میں 962، جمرود میں 541، باڑہ میں 213 جبکہ بی ایچ یو جانباز (باڑہ) میں 143 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس بیماری کے پھیلاؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈی کوتل ڈاکٹر جمیل احمد نے جدید تھرمو میڈ اور کرائیوتھراپی مشینوں کی فراہمی پر صوبائی محکمہ صحت اور ڈی ایچ او خیبر ڈاکٹر رفیق حیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ضلع خیبر کے ہزاروں مریضوں کو جدید علاج کی سہولت مقامی سطح پر میسر آئے گی اور علاج کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

دریں اثنا ضلع خیبر کے عوام نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جدید مشینوں کی تنصیب سے لیشمینیا کے پھیلاؤ کو روکنے اور مریضوں کے مؤثر علاج میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ عوام نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ گلوکانٹائم انجیکشن کی رجسٹریشن اور فراہمی کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ ضلع خیبر سمیت ملک بھر کے لیشمینیا کے مریض بروقت اور معیاری علاج حاصل کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے