واگاڈوگو (کیو این این ورلڈ): افریقی ملک برکینا فاسو میں فوجی حکومت اور مسلم علما کے درمیان اختلافات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برکینا فاسو کے عبوری صدر اور فوجی حکمران کیپٹن ابراہیم ٹراورے، جو ماضی میں کئی بااثر مسلم علما کی حمایت حاصل کرتے رہے ہیں، اب انہی مذہبی حلقوں کے ساتھ ایک نئے محاذ آرائی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات نئے مذہبی قوانین، معروف ائمہ کی گرفتاریاں اور حکومت کی جانب سے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جاری مہم قرار دی جا رہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ابراہیم ٹراورے نے حالیہ دنوں میں مسلم علما سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسے وہ "شدت پسند اسلام” قرار دیتے ہیں، اس کی برکینا فاسو میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے انتہا پسند نظریات پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسے عناصر نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو "لڑائی شروع ہو چکی ہے”۔
ٹراورے نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہب کو مثال، اخلاق اور کردار کے ذریعے پھیلایا جانا چاہیے، نہ کہ جبر، تشدد یا خوف کے ذریعے۔ انہوں نے بعض مسلم حلقوں کی جانب سے نئے مذہبی آزادی قانون کی مخالفت پر سوال اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے ائمہ جو اپنے خطبات میں انتہا پسندانہ خیالات کو فروغ دیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ابراہیم ٹراورے نے عرب ممالک میں اسلامی تعلیم حاصل کرنے والے برکینا فاسو کے طلبہ کو واپس بلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آٹھ لاکھ سے زائد نوجوان بیرون ملک مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن وہ عملی اور پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل نہیں کر رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو طلبہ وطن واپس آنے سے انکار کریں گے، انہیں برکینا فاسو کی شہریت سے محروم ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ اس اعلان سے قبل حکومت نے جون کے آخر میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے وزارتِ اعلیٰ تعلیم سے پیشگی منظوری لازمی قرار دی گئی۔
حکومتی مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بیرون ملک تعلیمی پروگراموں کو قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
20 جون کو برکینا فاسو کی عبوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر "مذہبی آزادی قانون” منظور کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ریاست کے سیکولر تشخص کو مضبوط بنانا اور مذہب کے نام پر ہونے والی بعض غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔
قانون کے تحت بچوں سے جبری بھیک منگوانے، مذہبی اداروں میں مالی شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور بعض دیگر اقدامات پر جرمانوں اور قید کی سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔
تاہم مسلم علما اور مذہبی حلقوں کے ایک حصے کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ریاست کو مذہبی معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کا اختیار دیتا ہے اور اس سے مذہبی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حکومت اور مسلم علما کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب مئی کے آخر میں ملک کے معروف سنی عالم امام محمد اسحاق کنڈو کو نئے قانون پر تنقید کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے بعد دارالحکومت واگاڈوگو میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ تاہم حکومت نے ان احتجاجات کو "چند شدت پسند عناصر کی کارروائی” قرار دیا۔ احتجاج کے بعد حکام نے امن و امان کی صورتحال کا جواز پیش کرتے ہوئے دارالحکومت کی سب سے بڑی سنی مسجد کو بھی بند کر دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امام کنڈو کے تقریباً 100 حامیوں کو ایک فوجی کیمپ منتقل کیا گیا جہاں انہیں حکام کے بقول "شہری تربیت” دی گئی۔
اس سے قبل اپریل کے وسط میں بوبو دیولاسو شہر کے ایک اور ممتاز عالم امام محمود بارو کو بھی اسی نوعیت کے حالات میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ڈاکار میں قائم تحقیقی ادارے "ٹمبکٹو انسٹیٹیوٹ” کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے خاتمے کے بعد سے امام محمد اسحاق کنڈو کے مقام اور حالت کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تنازع صرف نئے قانون تک محدود نہیں بلکہ یہ دراصل اس غیر اعلانیہ مفاہمت کے خاتمے کی علامت ہے جو ابراہیم ٹراورے اور بااثر مسلم علما کے درمیان قائم تھی۔
جب ٹراورے نے اقتدار سنبھالا تو متعدد مذہبی شخصیات نے ان کی حمایت کی تھی، جس سے ان کی عوامی ساکھ اور سیاسی حیثیت کو تقویت ملی تھی۔ تاہم اب انہی حلقوں کے ساتھ تصادم پیدا ہونے سے حکومت اپنی ایک اہم سیاسی اور سماجی حمایت کھونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔
ٹمبکٹو انسٹیٹیوٹ کے مطابق اگر ٹراورے اپنے سابق حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو وہ اپنی سیاسی مشروعیت کے ایک اہم ستون کو کمزور کر سکتے ہیں، جبکہ اس کے باوجود ملک میں جاری سکیورٹی بحران کے حل کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اندرونی کشیدگی کے ساتھ ساتھ برکینا فاسو کی خارجہ پالیسی میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ حال ہی میں ابراہیم ٹراورے نے اسرائیل کے نئے سفیر سائمن سیروسی کا خیرمقدم کیا، جنہوں نے واگاڈوگو میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔
فرانسیسی جریدے "افریقہ انٹیلی جنس” کے مطابق اسرائیلی سفیر کی منظوری کی درخواست 2025 میں جمع کرائی گئی تھی، تاہم اسے کافی عرصے تک مؤخر رکھا گیا اور بعد ازاں خاموشی سے منظور کر لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی سفیر کا سرکاری استقبال اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹراورے کی حکومت اب مغرب مخالف بیانیے کے ساتھ ساتھ نئی سفارتی ترجیحات بھی اختیار کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی سکیورٹی ادارے برکینا فاسو، مالی اور نائجر پر مشتمل "الائنس آف ساحل اسٹیٹس” کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھا رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اب جب مذہبی آزادی کا قانون نافذ ہو چکا ہے، ممتاز علما کی گرفتاریاں جاری ہیں اور ابراہیم ٹراورے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف "جنگ شروع ہونے” کا اعلان کر چکے ہیں، تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے سماجی اور مذہبی اثر و رسوخ کے مراکز پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں ریاستی اختیار کو مضبوط کریں گی یا پھر ملک کی سب سے بااثر سماجی قوتوں میں سے ایک، یعنی مسلم مذہبی قیادت، کے ساتھ تصادم کو مزید گہرا کر دیں گی۔
برکینا فاسو اس وقت نہ صرف سکیورٹی چیلنجز بلکہ سیاسی اور مذہبی کشیدگی کے ایک حساس دور سے گزر رہا ہے، اور آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ تنازع ملک کے استحکام پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔