بی بی سی کے مطابق سعودی عرب کو مستقبل میں یورینیم افزودگی کی اجازت مل سکتی ہے، عالمی سطح پر تشویش

واشنگٹن/ریاض (کیو این این ورلڈ): امریکہ اور سعودی عرب نے ایک تاریخی جوہری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب کو سول نیوکلیئر پروگرام (پرامن جوہری توانائی پروگرام) کے قیام اور ترقی میں امریکی تعاون حاصل ہوگا۔ بی بی سی کے مطابق اس معاہدے کو ’’پرامن جوہری تعاون کا معاہدہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، جو سعودی عرب کے جوہری توانائی پروگرام میں امریکی کمپنیوں کو وسیع رسائی فراہم کرے گا۔

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق اس معاہدے کے ساتھ ایک دوطرفہ حفاظتی (Safeguards) معاہدہ بھی طے پایا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط اربوں ڈالر مالیت کی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تعاون کا مقصد جوہری عدم پھیلاؤ، اقتصادی ترقی اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔

بی بی سی کے مطابق معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ (Enrich) کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ افزودہ یورینیم ایک طرف بجلی گھروں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو واقعی یورینیم افزودگی کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ امریکی پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہوگی، کیونکہ امریکہ نے ماضی میں کسی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کے لیے اس نوعیت کی معاونت فراہم نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں جوہری پھیلاؤ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

سعودی حکومت نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے۔ سعودی بیان کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ نومبر میں سعودی قیادت کے دورۂ واشنگٹن کے بعد طے پانے والی پیش رفت کا حصہ ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے سے امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، متعدد امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے اور حالیہ عرصے میں ایرانی حملوں کا بھی نشانہ بن چکا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا ہے۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین عالمی معیارات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور سائنس دانوں کی مدد سے ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جو محفوظ، شفاف اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔

تاہم اسرائیل سمیت کئی ممالک کے سابق حکام اور جوہری ماہرین نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو گئی تو مستقبل میں اس کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اگرچہ بیشتر ماہرین کے مطابق اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

امریکی تھنک ٹینک ’’ڈیفنس پرائیوریٹیز‘‘ سے وابستہ مشرق وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر روزمیری کیلینک نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اگر معاہدے میں سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی ہے تو یہ انتہائی حیران کن پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق امریکہ نے ماضی میں کبھی کسی ملک کو اس نوعیت کی سہولت فراہم نہیں کی کیونکہ جوہری ایندھن کی مقامی پیداوار مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

معاہدہ اب امریکی کانگریس میں منظوری اور جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹک اور بعض ریپبلکن ارکان اس کی مخالفت کریں گے، اگرچہ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جس سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو۔ تاہم کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس مؤقف کو چیلنج کیا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مارکو روبیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے نام پر جنگی پالیسی اپنائی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی دی جا رہی ہے، جو ان کے بقول ایک متضاد اور خطرناک حکمت عملی ہے۔

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب کئی برسوں سے مختلف امریکی صدور کے ادوار میں اس نوعیت کے معاہدے کی کوشش کر رہا تھا۔ ماضی میں واشنگٹن کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات قائم کرے، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اس شرط کو معاہدے سے الگ کر دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پس منظر میں ایک اہم عنصر روس اور چین بھی ہیں، جو مبینہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ اسی نوعیت کے جوہری تعاون پر بات چیت کر رہے تھے۔ امریکہ ممکنہ طور پر اس اہم اور منافع بخش شعبے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے ایک بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے عملی نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آئیں گے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2018 میں امریکی نشریاتی ادارے CBS کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران نے جوہری بم تیار کر لیا تو سعودی عرب بھی ’’بلا تاخیر‘‘ اسی راستے پر چلنے پر مجبور ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے