میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار: منظور علی جوئیہ):تعلقہ بار ایسوسی ایشن میہڑ کی اپیل پر معصوم بچوں کے اغوا، ان کی عدم بازیابی اور ببرلو بائی پاس پر پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف وکلا، شہریوں اور مختلف سماجی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے لاپتہ بچوں کی فوری بازیابی اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
تفصیلات کے مطابق وکلا، سماجی کارکنان اور شہری عدالت کے احاطے سے ریلی کی صورت میں نکلے اور شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب میہڑ کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پریا کماری، اجالا سولنگی اور دیگر لاپتہ بچوں کی بازیابی میں ناکامی کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ ببرلو بائی پاس پر احتجاجی مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس گردی کی بھی مذمت کی گئی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ معصوم بچوں کا اغوا ایک سنگین انسانی اور سماجی مسئلہ ہے، لیکن افسوس کے ساتھ متعلقہ ادارے بچوں کی بازیابی میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور ببرلو بائی پاس پر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے والوں پر لاٹھی چارج اور مقدمات کا اندراج ناقابل قبول ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر پریا کماری، اجالا سولنگی اور دیگر لاپتہ بچوں کو بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور انڈس ہائی وے بند کر کے بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ببرلو بائی پاس واقعے میں مبینہ پولیس گردی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے مؤثر اور ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کی پریشانی کا خاتمہ ہو سکے۔
احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور بچوں کی بازیابی کے لیے ہر قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔