ایران نے جوہری سینٹری فیوجز ’کوہِ کلنگ‘ کی زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کر دیے، اسرائیلی انٹیلیجنس کا دعویٰ

’کوہِ کلنگ‘ پر عالمی توجہ، ایران کے جوہری سینٹری فیوجز کی منتقلی کا اسرائیلی دعویٰ

اسرائیلی انٹیلیجنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اہم آلات، جن میں یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے ہزاروں سینٹری فیوجز شامل ہیں، ایک گہری زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کر دیے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سینٹری فیوجز ایران کے ایک زیرِ زمین مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ (Pickaxe Mountain) یا ’کوہِ کلنگ‘ منتقل کیے گئے ہیں، جہاں انہیں ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ منتقلی گزشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد کی گئی، جس کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ایران نے ان حملوں کے بعد اپنی جوہری صلاحیتوں کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین تنصیبات کا استعمال بڑھایا۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام کے مطابق امریکا گزشتہ کچھ عرصے سے اس مقام پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں میں اس مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پک ایکس ماؤنٹین‘ ایک بڑا اور مضبوط ہدف ہو سکتا ہے اور امریکا اسے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے 13 جولائی کو ایک انٹرویو میں پہلی بار کھلے عام اس زیرِ زمین مقام کا ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقام کئی برسوں سے امریکا اور اسرائیل کی نگرانی میں ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ زیرِ زمین کمپلیکس زمین سے تقریباً 300 سے 450 فٹ گہرائی میں واقع ہے اور اسے اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ یہ ممکنہ فضائی حملوں سے زیادہ محفوظ رہ سکے۔ اس مقام میں متعدد جوہری تنصیبات رکھنے کی گنجائش موجود ہونے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر خدشات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے