خیرپور: ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، رانی پور میں ایک شخص زخمی

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) ضلع خیرپور میں بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری، ڈکیتی، راہزنی اور قتل کی وارداتوں کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ شہریوں کی جانب سے امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ حالیہ جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد لیڈی ڈاکٹرز بھی احتجاج میں شامل ہو کر سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ خیرپور میں جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو کر سرگرم ہیں اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے میں متعلقہ ادارے ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو متعدد بار صورتحال سے آگاہ کیا گیا، تاہم اب تک مؤثر اقدامات سامنے نہیں آ سکے۔

شہریوں کے مطابق ضلع بھر میں چوری، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر جرائم روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے باعث عوام خصوصاً خواتین میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں خواتین کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات نے شہریوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خیرپور شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک لیڈی ڈاکٹر کو اسلحے کے زور پر روک کر ان سے طلائی زیورات، نقدی اور موبائل فون چھین لیا اور فرار ہو گئے۔ اسی روز گمبٹ میں بھی ایک خاتون ڈکیتی کا شکار ہوئی، جبکہ اَگھڑا تھانے کی حدود میں بھی ایک خاتون سے لوٹ مار کی واردات رپورٹ ہوئی، جس پر خواتین سمیت مختلف طبقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب خیرپور شہر میں دو بلڈرز کے درمیان سرِعام فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی موجودگی کے باوجود مسلح افراد فائرنگ کرتے رہے جبکہ پولیس اہلکار موقع سے ہٹ گئے، جس پر شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ادھر پیر وسن کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک نوجوان کو قتل کر دیا گیا، جبکہ رانی پور میں بھی مزاحمت کرنے پر ایک نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں خیرپور شہر میں لاکھوں روپے مالیت کی چوری کی واردات رپورٹ ہوئی جبکہ گمبٹ میں بھی ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مزاحمت کرنے والے شہریوں کو مسلح ملزمان کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

احتجاج میں شریک شہریوں، سماجی کارکنوں اور لیڈی ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ خیرپور میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کے جان، مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

مظاہرین نے منتخب عوامی نمائندوں کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو خیرپور میں بدامنی مزید سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عوام نے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے