انصاف میں تاخیر نے جان لے لی: ملتان میں خاتون کی خودکشی پر بدھلہ سنت تھانے کا عملہ معطل و مقدمہ درج

ملتان (کیو این این ورلڈ) ملتان کے علاقے قادر پوراں میں مبینہ زیادتی کے مقدمے کا اندراج نہ ہونے پر ایک خاتون کی خودکشی کے دلدوز واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملتان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق متوفیہ شمیم بی بی نے الزام عائد کیا تھا کہ علاقے کے تین بااثر افراد نے انہیں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ متاثرہ خاتون نے انصاف کے حصول کے لیے تھانہ بدھلہ سنت میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی اور ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی، تاہم پانچ روز گزرنے کے باوجود پولیس روایتی سستی کا مظاہرہ کرتی رہی اور مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق تھانے کے بار بار چکر لگانے اور انصاف میں مسلسل تاخیر کے باعث خاتون شدید ذہنی دباؤ اور دلبرداشتگی کا شکار ہو گئیں۔ اسی مایوسی کے عالم میں انہوں نے مبینہ طور پر گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا لیں، جس سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے بچانے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

خاتون کی موت کی اطلاع ملتے ہی آر پی او ملتان نے فوری نوٹس لیا اور ابتدائی انکوائری کے بعد فرائض میں مجرمانہ غفلت برتنے پر ڈی ایس پی ارشاد حسین، ایس ایچ او عظیم ذوالفقار، تفتیشی افسر وسیم اور تھانے کے محرر کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معطل ملازمین کے خلاف قانون ہاتھ میں لینے اور غفلت پر مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش جاری ہے، جبکہ خاتون کی جانب سے نامزد کیے گئے تینوں ملزمان کے خلاف بھی مبینہ زیادتی کے الزامات کے تحت قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے