مکتی باہنی سے آپریشن سیندور 2 تک: دشمن کا سکرپٹ

پرانا دشمن، نیا سکرپٹ
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

"1971ء میں مشرقی پاکستان کو توڑنے والا پاکستان کا ازلی مکار دشمن بھارت اور اس کے ہم نوا آج بلوچستان میں نئے اسکرپٹ سے وحشت اور بربریت پھیلا رہے ہیں؛ کیا وطنِ عزیز کو ایک بار پھر اسی ہولناک سازش، ‘مکتی باہنی’ جیسے خونی کھیل اور ‘آپریشن سیندور 2’ کا سامنا ہے؟”

تاریخ کا ایک سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس سے سبق نہیں سیکھا جاتا، اور جب تاریخ خود کو دہراتی ہے تو اس کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے، بلوچستان میں جاری دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اور ریاستی اداروں پر حملوں کی جو نئی اور ہولناک لہر دکھائی دے رہی ہے، وہ وطنِ عزیز کے ہر محبِ وطن شہری کو پچپن سال پیچھے، یعنی 1971ء کے مشرقی پاکستان کے حالات کی یاد دلا رہی ہے۔ موجودہ سیکیورٹی ماہرین اور عالمی تجزیہ کار اب کھلے عام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان کو ایک بار پھر اسی طرز کی "مکتی باہنی” کا سامنا ہے؟ اور کیا بھارت اپنے پرانے اور بھیانک ایجنڈے کے تحت "آپریشن سیندور 2” کے ذریعے پاکستان کے مغربی بازو کو کاٹنے کی سازش پر عمل پیرا ہے؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ماضی کے دریچوں میں جھانکنا ہوگا اور مشرقی پاکستان کے سقوط کے حقیقی محرکات کا بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے تقابلی جائزہ لینا ہوگا۔

مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کا ٹوٹنا اور پاکستان کا مشرقی بازو کٹنا ہماری تاریخ کا وہ ناسور ہے جس کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ دہائیوں تک دنیا کو ایک یکطرفہ پروپیگنڈے کے تحت یہ پٹی پڑھائی گئی کہ مشرقی پاکستان میں مبینہ طور پر پاکستانی افواج نے زیادتیاں کیں، لیکن اب خود بنگلہ دیش کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں، دستاویزی ثبوتوں اور آزاد محققین نے اس جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ تاریخ اب اپنے اصل روپ میں درست ہو رہی ہے اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ مشرقی پاکستان میں قتل و غارت گری، لوٹ مار اور بربریت کا اصل ماسٹر مائنڈ بھارت تھا۔ بھارتی فوج نے "مکتی باہنی” کے روپ میں مشرقی پاکستان میں گھس کر وہاں کے معصوم شہریوں، بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے تہہ تیغ کیا۔ مکتی باہنی کے بھیس میں بھارتی سپاہیوں اور تربیت یافتہ غنڈوں نے نہ صرف غیر بنگالیوں (بہاریوں) اور محبِ وطن پاکستانیوں کا قتلِ عام کیا، بلکہ معصوم بنگالی بچیوں اور عورتوں کی عصمت دری کی اور ان تمام ہولناک جرائم کا ملبہ نہایت عیاری کے ساتھ پاکستانی افواج پر ڈال دیا۔ یہ تاریخ کی بدترین اور منظم ترین ‘پروپیگنڈا وار فیئر’ (Propaganda Warfare) تھی، جس کا مقصد پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنا اور اپنے جارحانہ عزائم کو چھپانا تھا۔ جون 2015 میں خود سابق بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ڈھاکہ کے دورے کے دوران فخریہ انداز میں اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش کو بنانے اور مکتی باہنی کی پشت پناہی میں ان کا اور ان کی جماعت کا کیا کردار تھا۔

آج یہی خوفناک کھیل، اسی اسکرپٹ اور اسی ڈائریکٹر (بھارت) کے تحت بلوچستان کی دھرتی پر کھیلا جا رہا ہے۔ اس پرانے دشمن کے نئے بھیانک اسکرپٹ کا تازہ ترین اور واضح ثبوت ہمیں گذشتہ ہفتے بلوچستان میں دہشت گردی کے سنگین واقعات رونما ہوئے، جس نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے۔ 5 جولائی کو زیارت کے منگی ڈیم پروجیکٹ کی پولیس پوسٹ پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا، جس میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت متعدد جوان شہید ہوئے جبکہ 18 کو اغوا کر کے بعد میں بے دردی سے انہیں شہید کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہائی وے پر فوجی گاڑی پر حملہ اور دیگر مختلف شرپسند کارروائیوں میں مجموعی طور پر 42 سیکیورٹی اہلکار (پولیس اور فوج) جامِ شہادت نوش کر گئے۔

ان وحشیانہ حملوں کی ذمہ داری بھارتی پراکسی نے قبول کی، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن اب چور دروازوں سے نکل کر سامنے آچکا ہے۔ ان چیلنجز کے جواب میں پاکستانی فوج، فرنٹیئر کور (FC) اور پولیس نے مشترکہ طور پر "آپریشن شعبان” کا آغاز کیا۔ اس بڑے پیمانے کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں سیکورٹی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا ہے اور اب تک درجنوں دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ یہ حالیہ واقعات CPEC اور پاکستان کے اہم ترین ترقیاتی پروجیکٹس کو نشانہ بنانے کی اسی تسلسل کی کڑی ہیں، جن کا مقصد صوبے میں امن و امان کے شدید چیلنجز پیدا کر کے ریاست کو دفاعی پوزیشن پر لانا ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں، بالخصوص حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کی جو منظم لہر آئی ہے، اس کے پیچھے گوادر، تربت، مستونگ اور مچھ کے واقعات گواہ ہیں کہ کس طرح معصوم مزدوروں، مسافروں ، سرائیکی اور پنجابی و دیگر زبانیں بولنے والے پاکستانیوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا جاتا ہے۔ کالعدم تنظیمیں جیسے بی ایل اے (BLA) اور دیگر دہشت گرد گروہ بالکل اسی طرح معصوم بلوچوں کو بھی ڈھال بنا رہے ہیں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں جیسے 1971ء میں مکتی باہنی نے بنگالیوں کو گمراہ کیا تھا۔ ان دہشت گردوں کی عسکری تربیت، جدید ترین امریکی و یورپی ہتھیاروں کی فراہمی اور اربوں ڈالرز کی فنڈنگ کے تار براہِ راست بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ (RAW) سے جڑے ہوئے ہیں جو افغان سرزمین اور دیگر خفیہ راستوں کا استعمال کر کے بلوچستان کو آگ اور خون میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں نے بڑا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اس وقت "آپریشن سیندور 2” (Operation Sindoor 2) پر پوری قوت سے کام کر رہا ہے۔ یہ اصطلاح بنیادی طور پر پاکستان کے اندرونی حالات کو اس حد تک بگاڑ دینے کے خفیہ بھارتی منصوبے کو ظاہر کرتی ہے جہاں سیکیورٹی فورسز اور عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ بھارت کا اصل ہدف یہ ہے کہ بلوچستان میں سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ کے منصوبوں کو ناکام بنایا جائے، تاکہ پاکستان معاشی طور پر کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے بھارت گوادر میں کام کرنے والے چینی انجینئرز اور ترقیاتی کاموں کو نشانہ بناتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ایک وسیع اور منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکستانی ریاست، بالخصوص پاک فوج کے خلاف شدید نفرت کا زہر گھولنا ہے تاکہ انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کیا جا سکے۔

اگر ہم 1971ء کے مشرقی پاکستان اور آج کے بلوچستان کے حالات کا تقابلی جائزہ لیں تو ہمیں کئی بھیانک مماثلتیں نظر آتی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں بھارت نے وہاں کے جائز معاشی و سیاسی گلے شکووں کو ہوا دی اور انہیں بندوق کی زبان میں تبدیل کر دیا۔ آج بلوچستان میں بھی گیس کی رائلٹی، ساحل کے وسائل پر اختیار اور پسماندگی جیسے حقیقی عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر بیرونی قوتیں علیحدگی پسندی کے جذبات کو ابھار رہی ہیں۔ 1971ء میں مکتی باہنی نے سکولوں، پلوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بنایا تھا اور آج بلوچستان میں بھی گیس پائپ لائنوں، بجلی کے ٹاورز، ریلوے ٹریکس اور سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑی مماثلت ‘پروپیگنڈا’ کی ہے، جس طرح 1971ء میں بھارتی میڈیا نے جھوٹی کہانیاں گھڑ کر دنیا کو گمراہ کیا، بالکل اسی طرح آج ففتھ جنریشن وار فیئر (5th Generation Warfare) کے تحت بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا شور مچا کر دہشت گردوں کو "مظلوم” اور ریاست کو "ظالم” بنا کر پیش کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم، اس تاریک منظرنامے میں ایک بنیادی اور انتہائی اہم فرق ہے جو بھارت کو اس کے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ مشرقی پاکستان جغرافیائی طور پر مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل دور تھا اور اس کے تینوں اطراف بھارت موجود تھا، جس کی وجہ سے ہماری افواج کو سپلائی لائن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس، بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور جغرافیائی طور پر ملک کے دیگر حصوں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بلوچستان کی اکثریت، وہاں کے غیور قبائلی عمائدین اور عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور وہ ان چند سو گمراہ اور بکنے والے دہشت گردوں کے بیانیے کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ بلوچ عوام جانتے ہیں کہ ترقی، خوشحالی اور بقا صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔

پاکستان کو اس وقت جس غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں دو محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف تو ریاستی اداروں کو ان دہشت گردوں اور ‘را’ کے پے رول پر پلنے والے عناصر کا سختی سے قلع قمع کرنا ہوگا اور ان کی سپلائی لائنز کو کاٹنا ہوگا۔ "آپریشن شعبان” کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری افواج دشمن کے کسی بھی اسکرپٹ کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ حکومت کو بلوچستان کے معصوم اور محبِ وطن عوام کے جائز معاشی، سیاسی اور سماجی گلے شکووں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنا ہوگا۔ بلوچ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہی دشمن کے اس "آپریشن سیندور 2” کا سب سے بڑا اور مؤثر توڑ ہے۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دور اندیشی، مضبوط سیاسی عزم اور اخلاص کے ساتھ بلوچستان کے مسائل کو حل کیا، تو دشمن کی بنائی ہوئی "دوسری مکتی باہنی” کا خواب ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائے گا اور پاکستان کا یہ مغربی بازو ملک کی ترقی کا سب سے بڑا ضامن بن کر ابھرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے