ضمیر کی گواہی — جسٹس مرلی دھر
تحریر: سید نذیر شاہ
دنیا میں روز سینکڑوں عدالتیں لگتی ہیں، ہزاروں جج کرسیوں پر بیٹھتے ہیں، لاکھوں صفحات کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اور سب کچھ تاریخ کی دھول میں گم ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ نام اور کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو جغرافیے کی سرحدوں کو توڑ کر پوری انسانیت کا ضمیر بن جاتے ہیں۔ ہمارے خطے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایک جج کا کام صرف اپنے ملک کی فائلوں پر دستخط کرنا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزارنا ہے، لیکن جسٹس سری نواسن مرلی دھر نے ثابت کیا کہ انصاف کا کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی ضمیر کسی ایک ملک کا پابند ہوتا ہے۔ ان کا نام تاریخ کے ان چند منصفوں میں لکھا جائے گا جن کا بے باک سفر چنئی کی چھوٹی عدالتوں سے شروع ہو کر جنیوا اور غزہ کے ملبے تک پہنچتا ہے، اور اس عالمی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مارتا ہے جو ہمیشہ طاقتور کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔
ہمیں اس پوری کہانی کا پس منظر سمجھنے کے لیے پہلے اس شخص کے ماضی کو دیکھنا ہوگا۔ 8 اگست 1961 کو پیدا ہونے والا یہ شخص جب 1984 میں وکالت کے میدان میں اترا، تو اس کے پاس کارپوریٹ دنیا کے اربوں روپے کمانے کے مواقع موجود تھے، لیکن اس نے انسانی حقوق کے کمیشن کا وکیل بننا پسند کیا۔ یہ وہ جج تھا جس نے 2006 میں دہلی ہائی کورٹ کا جج بننے کے بعد قانون کو کتابوں سے نکال کر سڑکوں پر بیٹھے غریبوں، قیدیوں اور پولیس تشدد کے شکار مظلوموں کی ڈھال بنایا۔
ان کی زندگی کا پہلا بڑا موڑ 2020 میں آیا جب دہلی میں خونی فسادات ہوئے۔ اس وقت کی طاقتور ترین سرکار اور پولیس تماشائی بنی ہوئی تھی، مگر جسٹس مرلی دھر نے عدالت میں دہلی پولیس کے اعلیٰ ترین افسران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ تم نے نفرت انگیز تقاریر کرنے والے سیاست دانوں پر مقدمہ کیوں درج نہیں کیا؟ طاقتوروں کو یہ سوال اتنا چبھا کہ راتوں رات ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کر دیا گیا۔ وہ بعد میں اڑیسہ ہائی کورٹ کے بتیسویں چیف جسٹس بنے اور اگست 2023 میں ریٹائر ہو گئے۔ یہاں تک ان کی کہانی اپنے ملک کے ایک اصول پسند جج کی تھی، لیکن اصل کہانی ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتی ہے۔
اسرائیلی حملوں سے جب غزہ کے اسپتال، اسکول اور پناہ گاہیں ملبے کا ڈھیر بننے لگیں اور دنیا بھر سے معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں سامنے آنے لگیں، تو اقوام متحدہ پر یہ دباؤ بڑھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والے ان مظالم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن قائم کرے۔ اسرائیل اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کا سفارتی دباؤ اتنا شدید تھا کہ کوئی بھی جج یا قانونی ماہر اس جلتی ہوئی آگ میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں تھا۔
وہ ایک ایسا نام چاہتے تھے جو مصلحت پسند ہو، جو ان کے جنگی جرائم پر پردہ ڈال سکے، لیکن اقوام متحدہ کو ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جس کی ساکھ پر کوئی داغ نہ ہو اور جسے ڈرایا یا خریدا نہ جا سکے۔ جنیوا کے بند کمروں میں دنیا بھر کے ججوں کے پروفائلز کھنگالے گئے اور بالآخر قرعہ فال جسٹس مرلی دھر کے نام نکلا۔ یہ تقرری دراصل ان کی چالیس سالہ بے داغ عدالتی زندگی اور خاص طور پر 2020 میں دہلی پولیس کے سامنے ڈٹ جانے کے اس اصول پسندانہ کردار کا صلہ تھی جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
جسٹس مرلی دھر نے جب اس کمیشن کی کمان سنبھالی، تو انہوں نے روایتی بیوروکریٹک انداز اپنانے کے بجائے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے عینی شاہدین، زخمی بچوں، ڈاکٹروں، سیٹلائٹ تصاویر اور ہسپتالوں کے ریکارڈز کا ایسا ناقابلِ تردید ڈیٹا جمع کیا جس کا انکار ممکن نہ رہے۔
7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والا یہ خونی کھیل جب اکتوبر 2025 میں عارضی جنگ بندی تک پہنچا، تو اس جج کے سامنے ہلاکتوں کے ایسے ہولناک اعداد و شمار تھے جنہیں دیکھ کر کسی بھی انسان کا دل دہل جائے۔ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے دو سالوں میں کم از کم 20 ہزار 179 معصوم فلسطینی بچے شہید ہو چکے تھے اور 44 ہزار 143 بچے شدید زخمی یا ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے تھے۔
کمیشن کی اس تفصیلی تحقیقات میں یہ دردناک حقائق بھی سامنے آئے کہ یہ اموات صرف براہِ راست بمباری کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ اسرائیل نے شعوری طور پر خوراک، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی سپلائی بلاک کر کے قحط اور بیماری کو ایک باقاعدہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں فلسطینی بچے ایسے تھے جو غذائی قلت اور اسہال جیسی عام بیماریوں کے باعث ہسپتالوں کے سرد فرش پر تڑپ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ڈاکٹروں کی گواہیوں سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ نوزائیدہ بچوں کے انکیوبٹرز کی بجلی اور آکسیجن منقطع کی گئی، جس سے معصوم جانیں سسک سسک کر دم توڑ گئیں۔
اس کے علاوہ، سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی شواہد کی مدد سے کمیشن نے یہ ثابت کیا کہ غزہ کے تقریباً 85 فیصد اسکول، کالجز اور تعلیمی ادارے دانستہ طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے تاکہ ایک پوری نسل کو تعلیم سے محروم کر کے ان کا مستقبل ہمیشہ کے لیے مفلوج کر دیا جائے۔
رپورٹ کا سب سے ہولناک پہلو بچوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کا تھا۔ عالمی ماہرینِ نفسیات کے انٹرویوز اور ڈیٹا کی روشنی میں یہ انکشاف کیا گیا کہ غزہ کا ہر دوسرا بچہ اس وقت شدید ترین ذہنی صدمے، خوف اور گونگے پن کا شکار ہو چکا ہے۔ راتوں کو بمباری کے ڈر سے چونک جانا اور اپنے والدین کو آنکھوں کے سامنے ملبے تلے دبتے دیکھنا ان کا مستقل ذہنی روگ بن گیا ہے۔
رپورٹ میں ان ہزاروں بچوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا جن کے خاندان کا اب دنیا میں کوئی ایک بھی رکن زندہ نہیں بچا، اور وہ اکیلے اس ہولناک منظرنامے میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بالآخر 23 جون 2026 کو جسٹس مرلی دھر کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے اس کمیشن نے جنیوا سے ایک تاریخی رپورٹ جاری کی، جس کا عنوان تھا "بچپن کا جوہر تباہ کر دیا گیا”۔ یہ رپورٹ محض ایک قانونی دستاویز نہیں تھی، بلکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے مجرم کے خلاف ایک چارج شیٹ تھی۔
اس رپورٹ میں جسٹس مرلی دھر نے کسی لگی لپٹی کے بغیر لکھا کہ اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو حادثاتی طور پر نہیں، بلکہ دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا ہے اور یہ ہولناک عمل سیدھا سیدھا نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
جسٹس مرلی دھر کا اپنا تاریخی جملہ ریکارڈ پر آ چکا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کے مستقبل اور ان کے وجود کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔ انہوں نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں بچے مارے جا رہے ہیں اور اسرائیل تمام بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند رہا ہے۔
میں اس کالم کے ذریعے کسی کے لیے تالیاں نہیں بجوانا چاہتا۔ اس رپورٹ پر عدالتوں اور سفارت خانوں میں بحث چلتی رہے گی، مگر ایک بات تاریخ میں لکھی جا چکی ہے کہ جب پوری دنیا مصلحت کی نیند سو رہی تھی، تب ایک جج نے معصوم بچوں کے قتل پر سچ لکھ دیا۔
سلطنتیں بدل جاتی ہیں اور طاقتور آتے جاتے رہتے ہیں، مگر مظلوم کے حق میں اٹھنے والی سچی آواز کبھی نہیں مرتی۔ اب فیصلہ دنیا کے ضمیر نے کرنا ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے جھکتا ہے یا اس جج کے سچ کے سامنے۔
عدالتیں بند ہو سکتی ہیں اور پاسپورٹ منسوخ ہو سکتے ہیں، مگر اسرائیلی مظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے والے اس جج کے ضمیر کی گواہی کو تاریخ کبھی نہیں مٹا سکتی۔