بی ایس فیڈر نہر ٹوٹ گئی، متعدد دیہات متاثر، کسانوں کا فوری امداد کا مطالبہ

کندھ کوٹ ( کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار وقاراحمد اعوان)کندھ کوٹ کے قریب گڈو بیراج سے نکلنے والی بی ایس فیڈر نہر میں بڑے شگاف کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔ زور گڑھ کے مقام پر آر ڈی 51 کے قریب نہر میں اچانک شگاف پڑنے سے لاکھوں گیلن پانی آبادیوں اور زرعی اراضی میں داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آ گئیں جبکہ متعدد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق شگاف پڑنے کے بعد نہر کا پانی تیزی سے قریبی زرعی زمینوں اور آبادیوں کی طرف بڑھنے لگا، جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کھڑی فصلوں کے تباہ ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ کئی دیہات میں پانی داخل ہونے سے گھروں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واقعے کے کافی دیر بعد بھی محکمہ آبپاشی کا عملہ اور بھاری مشینری موقع پر نہیں پہنچ سکی، جس کے باعث پانی مسلسل مزید علاقوں میں پھیلتا جا رہا ہے۔ متاثرین نے محکمہ آبپاشی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نہروں کی بروقت نگرانی اور مرمت نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

کاشتکاروں اور مقامی رہائشیوں کے مطابق اگر فوری طور پر شگاف بند نہ کیا گیا تو مزید زرعی رقبہ اور آبادیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے مسلسل بہاؤ نے فصلوں، زرعی انفراسٹرکچر اور دیہی رابطہ سڑکوں کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

متاثرین نے وزیراعلیٰ سندھ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر شگاف بند کیا جائے، پانی کے بہاؤ کو روکا جائے اور متاثرہ علاقوں کا جامع سروے کر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔

شہریوں اور کسانوں نے مطالبہ کیا کہ فصلوں، گھروں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اس قدرتی و انتظامی بحران کے اثرات سے نکل سکیں۔

علاقے میں صورتحال کے پیش نظر مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ لوگ حکومتی اداروں کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدامات کے منتظر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے