امریکا اور یو اے ای کی مبینہ ملی بھگت پر ایران کا سخت ردعمل، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر یو اے ای کا احتساب ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق امریکی محکمہ تجارت کی ایک دستاویز میں برآمدات پر عائد بعض کنٹرولز میں نرمی اور متحدہ عرب امارات کے تجارتی درجے میں بہتری کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ پالیسی تبدیلی ایران کے خلاف امریکی عسکری اقدامات کی حمایت کے بدلے میں کی گئی، جس سے امریکا اور یو اے ای کے درمیان مبینہ تعاون ظاہر ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ عالمی ادارے کو امریکا کی مبینہ غیر قانونی جارحیت روکنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو تمام ممالک کو جوابدہ بنائیں۔ امریکی اور اماراتی حکام کی جانب سے ان ایرانی الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔