راولپنڈی (کیو این این ورلڈ): راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ ایک مرتبہ پھر تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ منظور شدہ ڈیزائن میں مبینہ طور پر دوسری بار تبدیلی کیے جانے کے الزامات سامنے آنے پر پنجاب حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور کو سونپ دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور نے راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) سے رنگ روڈ منصوبے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ تحقیقات کے دوران این او سیز، نقشہ جات، مختلف منظوریوں، ایکسیس روڈز، لینڈ یوز، بلڈنگ پلانز اور پٹرول پمپس سمیت تمام متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر ایک رٹ پٹیشن اور اس کے بعد آر ڈی اے کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا پنجاب حکومت کی باقاعدہ منظوری کے بغیر رنگ روڈ کے منظور شدہ ڈیزائن میں ردوبدل کیا گیا یا نہیں، اور نجی سروس ایریاز کو رسائی دینے کے لیے جاری کیے گئے این او سیز کس قانونی بنیاد پر دیے گئے۔
تحقیقاتی عمل کے دوران 28 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے مبینہ این او سی کا ریکارڈ بھی کھنگالا جا رہا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سرمایہ کار مظہر رحیم اعوان نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد منصوبے میں سرمایہ کاری کی، 102 کنال سے زائد اراضی خریدی، سرکاری واجبات کی مد میں 3 کروڑ 17 لاکھ 84 ہزار روپے جمع کرائے اور سروس ایریا منصوبے پر 75 کروڑ 32 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی۔
دوسری جانب آر ڈی اے نے اپنی انٹرا کورٹ اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سروس ایریا کو رنگ روڈ سے براہِ راست رسائی دینے سے منصوبے کے منظور شدہ ڈیزائن اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر منصوبے کے مختلف مراحل، منظوریوں اور انتظامی فیصلوں کا قانونی و تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر ابتدائی رپورٹ میں کسی قسم کی بے ضابطگی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آئی تو معاملہ اینٹی کرپشن حکام کے سپرد کرنے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی تجویز بھی زیر غور آ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے تنازع کا شکار رہ چکا ہے۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں بھی منصوبے کے ڈیزائن میں مبینہ تبدیلیوں کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس پر اُس وقت کے وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقات کی گئیں اور متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔
اب پنجاب حکومت ایک بار پھر منصوبے کے تمام پہلوؤں، منظوریوں اور مبینہ ڈیزائن تبدیلیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔