فتنہ الخوارج تاریخ اور مقصد
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
طالبان تحریک 1994 میں افغان خانہ جنگی کے ردِعمل میں ابھری، جس کے بعد پاکستان نے ایک مسلمان ہمسائے کی طرح افغان مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی حکومت کو سفارتی حمایت فراہم کی قیامِ امن کے لیے دہائیوں پر محیط مخلصانہ کوششوں کے باوجود، اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر پاکستان کے دوستانہ اقدامات کا جواب کھلی دشمنی سے دیا گیا۔ بدقسمتی سے آج افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا گڑھ بن چکی ہے، جہاں ’ فتنہ الخوارج ‘ افغان قیادت کی چشم پوشی کے سائے میں پاکستانی ریاست، افواج اور بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔
تحریکِ طالبان پاکستان کو ’ فتنہ الخوارج ‘ کہنے کی وجہ سمجھنے کے لیے 1400 سال قبل خلافتِ راشدہ کے دور میں جانا ضروری ہے۔ یہ گروہ دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کا وہ حصہ تھا جو جنگِ صفین میں ثالثی کے فیصلے پر باغی ہو کر الگ ہوا تھا۔ ان کا نعرہ ‘ لا حکم الا اللہ ‘ حکم صرف اللہ کا ہے اور انسانوں کو فیصلہ سازی کا کوئی حق نہیں۔ بظاہر تو حق معلوم ہوتا تھا، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی تکفیری سوچ کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ بات تو سچ ہے، مگر اس سے مراد باطل لی جا رہی ہے۔ یہی وہ تاریخی فتنہ تھا جس نے دین کی آڑ میں بغاوت اور تکفیر کا راستہ اختیار کیا اور اسی گروہ کے ایک فرد نے فجر کی نماز کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔
یہ لوگ جب نہروان کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں ہر اس مسلمان کو قتل کرتے گئے جو ان کے نقطہ نظر سے متفق نہیں تھا۔ انہوں نے بے گناہ مسافروں کو موت کے گھاٹ اتارا اور ایک حاملہ عورت تک کو نہیں بخشا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بار بار ان تک اپنے آدمی بھیجے کہ واپس آ جاؤ، مگر انہوں نے نہیں مانا۔ جب فتنہ حد سے بڑھ گیا اور ریاست اور عوام کی جان و مال خطرے میں پڑ گئی تو سن 38 ہجری میں نہروان کے میدان میں ان کے خلاف تلوار اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔ یہ اقدام کسی ذاتی دشمنی کے لیے نہیں تھا بلکہ ریاست کے تحفظ کا فریضہ تھا، کیونکہ جب کوئی گروہ دین کا نام لے کر اپنے ہی لوگوں کا خون بہائے تو اسے روکنا حکمرانِ وقت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
ان خوارج کے بارے میں ایک حیران کن بات یہ ہے کہ یہ لوگ ظاہری عبادت میں بہت آگے تھے۔ ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان تھے، راتوں کو گھنٹوں تلاوت کرتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ خود صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) انہیں دیکھ کر متاثر ہوتے تھے، مگر باطن میں وہ ایک ایسی سوچ کے حامل تھے جو ہر اختلاف کرنے والے کو کافر اور اس کا خون حلال سمجھتی تھی۔ یہی وہ خطرناک سوچ تھی جو انہیں باہر سے نیک اور اندر سے تباہ کار بناتی تھی۔ آخرکار یہ گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نہروان میں شکست کھانے کے باوجود ختم نہیں ہوا، بلکہ مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے ابھرتا رہا اور امتِ مسلمہ کو تکلیف دیتا رہا۔
اب آج کے پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ تحریکِ طالبان بھی خود کو اسلام اور جہاد کا علمبردار کہتی ہے مگر اس کے ہتھیار کسی غیر مسلم طاقت کی طرف نہیں اٹھے۔ اس کے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ہمیشہ پاکستانی فوجی، رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے ہیں اور مساجد و بازاروں میں بے گناہ شہریوں کا خون بہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستانی ریاست کو کافر قرار دیتی ہے، آئین کو طاغوت کہتی ہے اور فوج کو واجب القتل سمجھتی ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو چودہ سو سال پہلے نہروان والوں کی تھی پاکستان کے تمام بڑے علماء نے بھی اس تنظیم کی کارروائیوں کو خارجی سوچ قرار دے کر مذمت کی ہے اور یہ فتوے دیے ہیں کہ ان کا راستہ اسلام کا راستہ نہیں۔
اسی لیے جولائی 2024 میں وزارتِ داخلہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر کے حکم دیا کہ اب تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ کسی بھی شخص کے نام کے ساتھ مولانا، مفتی یا حافظ جیسا لقب نہیں لگایا جائے گا، بلکہ تمام سرکاری اور میڈیا مواصلات میں انہیں خارجی لکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ بظاہر چھوٹا لگتا ہے مگر یہ دراصل ایک بہت بڑی نظریاتی جنگ کا آغاز تھا۔ پاکستانی ریاست سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی پٹی میں صرف گولی سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی بلکہ یہ لڑائی بیانیے کی سطح پر بھی لڑنی پڑے گی۔ تحریک طالبان پاکستان عرصے سے خود کو دین کا داعی اور پشتون عوام کا ہمدرد ظاہر کرتی آئی ہے تاکہ مقامی لوگوں کی ہمدردی حاصل کر سکے۔ جب اسے ‘ فتنہ الخوارج ‘ کا نام دیا جاتا ہے تو اس کا یہ مذہبی چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے اور عام آدمی سمجھ جاتا ہے کہ یہ مجاہد نہیں بلکہ وہی پرانے خارجی ہیں جن کے بارے میں خود حدیثِ نبوی ﷺ میں خبردار کیا گیا تھا۔
ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ یہ ساری تباہی کون چلا رہا ہے اور کیا یہ صرف چند گمراہ نوجوانوں کا کام ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑا ہاتھ بھی ہے؟ تحریک طالبان پاکستان سے ٹوٹ کر بننے والے گروہوں میں ایک نام جماعت الاحرار کا بھی ہے۔ پاکستان کئی مواقع پر شواہد پیش کر چکا ہے کہ ان گروہوں کو بھارتی خفیہ اداروں کی مالی اور تکنیکی مدد حاصل ہے اور یہ مدد صرف ایک مقصد کے لیے تھی کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کیا جائے۔ افغان سرزمین جو کبھی پاکستان کی مہمان نوازی اور سفارتی حمایت کی مقروض تھی، آج اسی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیوں کی پناہ گاہ بن چکی ہے۔ دین کا لبادہ اوپر سے اور بیرونی دشمن کا ایجنڈا نیچے سے، یہی اس پورے فتنے کی اصل تصویر ہے
تاریخ گواہ ہے کہ خوارج نے کبھی کسی غیر مسلم سلطنت کا رخ نہیں کیا، بلکہ ان کے ہتھیار ہمیشہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف اٹھے تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے اور اس تباہی کی قیادت افغان سرزمین پر محفوظ بیٹھی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ’ فتنہ الخوارج ‘ محض کوئی پروپیگنڈا نہیں، بلکہ چودہ سو سال پرانی وہی تلخ حقیقت ہے جو نہروان کے میدان سے آج تک زندہ ہے۔ جب تک اس فتنے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی بند نہیں ہوتی، پاکستانی سکیورٹی ادارے اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر جائز اور قانونی اقدام اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔