امریکہ ایران امن معاہدے کے اثرات، برطانوی اور امریکی خام تیل کی قیمتیں یکدم گر گئیں

لندن/نیویارک (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم 4 فیصد تک گر گئیں۔ بین الاقوامی منڈی میں تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر ہی تیل کی قیمتوں میں بڑی مندی دیکھی جا رہی ہے، جسے عالمی سطح پر کشیدگی کے خاتمے اور سپلائی لائنز بحال ہونے کا براہِ راست اثر قرار دیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل (Brent Crude) کی قیمت میں واضح طور پر 4 ڈالر کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت کم ہو کر 83.70 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی 3.75 ڈالر کی گراوٹ کے بعد 80.76 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے اعلانات کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی بلا تعطل ترسیل کا یقین پیدا ہوا ہے، جس نے قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے ایک خصوصی پیغام کے ذریعے امریکہ اور ایران کے مابین اس طویل المدتی امن معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس تاریخی معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد کی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس کامیاب ثالثی پر قطر، سعودی عرب اور ترکیے کے کلیدی کردار کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا تھا۔

اس تاریخی پیش رفت کے تحت فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر اپنی ہر قسم کی فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی تصدیق بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔ عالمی سیاسی و معاشی حلقے اس معاہدے کو مڈل ایسٹ میں امن اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے