محرم الحرام سکیورٹی: گوجرانوالہ و گجرات ڈویژن کے لیے فوج اور رینجرز طلب، صوبائی وزراء کا دورہ

ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا ایک اہم اجلاس گوجرانوالہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق اور صوبائی وزیر و کو چیئرمین بلال یاسین نے مشترکہ طور پر کی۔

اس اہم اجلاس میں صوبائی وزراء ملک صہیب احمد بھرتھ، بلال اکبر خان، چوہدری شافع حسین، سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، آئی جی پنجاب عبدالکریم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی وسیم سیال، ڈی آئی جی سپیشل برانچ سجاد منج اور ڈی جی اوقاف حافظ انیس الرحمن سمیت گوجرانوالہ و گجرات ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبرانِ اسمبلی، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز نے خصوصی شرکت کی۔

اجلاس کے دوران کمشنر محمد علی اور آر پی او خرم شہزاد نے محرم الحرام کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں 6 ہزار 858 مجالس اور 1 ہزار 588 جلوسوں کے لیے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے 353 ذاکرین و مقررین کی ضلع بندی اور زباں بندی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران پولیس کی معاونت کے لیے پاک فوج کی 8 اور رینجرز کی 11 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، جبکہ طبی سہولیات کے لیے دونوں ڈویژنز میں 924 ڈاکٹرز اور 2 ہزار 850 پیرامیڈیکس عملہ ڈیوٹی پر موجود رہے گا، جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں فول پروف سکیورٹی اور قیامِ امن حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، محکمہ داخلہ کے قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور امن و امان میں رخنہ ڈالنے والے شر پسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

صوبائی وزیر بلال یاسین نے تاکید کی کہ تمام منتظمین پبلک سیفٹی ایپلی کیشن کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک رہیں اور انتظامات کے دوران موسم کی شدت کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے، جبکہ وزیر صحت ملک صہیب احمد بھرتھ نے جلوس کے روٹس کو سیف سٹی کیمروں سے مانیٹر کرنے اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کی ہدایت کی۔

وزیر صنعت بلال اکبر خان نے تمام مکاتبِ فکر پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر بدامنی سے اجتناب کی ترغیب دیں اور بین الاضلاعی سرحدوں پر سکیورٹی سخت کریں، جب کہ چوہدری شافع حسین نے فرقہ واریت کی روک تھام کے لیے تمام اضلاع میں سائبر پٹرولنگ سیل فوری فعال کرنے اور روایتی جلوسوں کو ایس او پیز کے تحت محفوظ بنانے کا حکم دیا۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ صوبہ بھر میں ڈرون اڑانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، جس پر سختی سے عمل کروایا جائے گا اور محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے پنجاب بھر کے جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ ہوگی، جبکہ آئی جی پنجاب نے پولیس فورس کو جلوس و مجالس کے اختتام تک پوری طرح مستعد رہنے کا حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے