ننکانہ صاحب ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دیہاڑ کی تقریبات آج اختتام پزیر ہو جائیں گی، جس کے بعد دنیا بھر سے یہاں آنے والے سکھ یاتری آج گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، جبکہ شہیدی دیہاڑ کی مرکزی تقریب 16 جون کو لاہور کے گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں منعقد ہوگی۔
سکھ یاتریوں کی آمد کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈی پی او ارسلان زاہد نے گوردوارہ جنم استھان کا خصوصی دورہ کیا، جہاں ضلعی سربراہان نے یاتریوں کے لیے کیے گئے انتظامات اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور گوردوارہ جنم استھان میں قائم عارضی ہسپتال اور لنگر خانے سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا۔
اس موقع پر ضلعی افسران نے سکھ یاتریوں سے براہ راست ملاقات کر کے انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا، جس پر یاتریوں نے بہترین سکیورٹی اور سفری و رہائشی انتظامات پر حکومت پاکستان اور ضلعی انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کا کہنا تھا کہ ننکانہ صاحب سکھ یاتریوں کا اپنا گھر ہے اور پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتری ریاست کے مہمان ہیں اور انہیں خصوصی پروٹوکول فراہم کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ارسلان زاہد نے سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتریوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 1 ہزار سے زائد پولیس افسران اور ملازمان انتہائی تندہی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں تاکہ مہمانوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔