
قطر کی ثالثی میں ایران امریکا معاہدے کا مسودہ مکمل، حتمی منظوری کا انتظار
تفصیلات کے مطابق دوحہ کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان ایک ممکنہ مفاہمتی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، تاہم اس پر دونوں ممالک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی حتمی منظوری ابھی تک غیر یقینی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مزید حملے کی صورت میں سخت تر ردعمل دیا جائے گا۔ اس تازہ کشیدگی نے 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے اور یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ امریکا جنگ بندی کی آڑ میں حملوں کو معمول بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
صورتحال میں شدت ایسے وقت میں آئی ہے جب مختلف سطحوں پر ملے جلے اشارے مل رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکری اقدامات اور سیاسی مذاکرات کے درمیان ہم آہنگی مکمل نہیں ہے۔
ایک سینئر ایرانی سیاسی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسلسل دوسرے روز کارروائیوں کا فیصلہ ممکنہ طور پر مذاکرات میں تعطل پر ان کے غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن میں زمینی حقائق اور مسلح تصادم کی سنگینی کو وہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جیسے یہ کوئی “ویڈیو گیم” ہو۔
اسی دوران تہران میں مذاکرات سے باخبر ایک تجربہ کار سیاسی شخصیت نے انکشاف کیا کہ مفاہمت کا مسودہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قطر نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جو دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ رابطے میں رہا ہے تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ مسودہ حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے، اور اگر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے منظوری دے دی جاتی ہے تو اسے باضابطہ طور پر نافذ کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔