آڈیو لیک نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تخریبی عزائم بے نقاب کر دیے، حکومتی حلقے

راولاکوٹ/مظفرآباد (کیو این این ورلڈ/خصوصی رپورٹ) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ آڈیو لیک نے کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے اندرونی اختلافات اور مبینہ پرتشدد منصوبہ بندی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اس آڈیو میں تنظیم کے بیرون ملک مقیم مرکزی رہنما شوکت نواز میر اور کوٹلی سے تعلق رکھنے والے اہم کارکن خواجہ مہران کے درمیان انتہائی تلخ گفتگو ریکارڈ کی گئی ہے۔

مبینہ گفتگو کے مطابق شوکت نواز میر نے راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر پرتشدد حملوں اور انتشار پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ میں پرتشدد حملے اور لڑائی نہ ہونے کی صورت میں مظفرآباد اور میرپور میں کچھ نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسز کی تعداد کا جائزہ لے کر کارروائی کا فیصلہ کرنے کی تجویز بھی دی۔ دوسری جانب خواجہ مہران نے حالیہ واقعات کے بعد مزید تعاون سے صاف انکار کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اب اس تحریک کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ آڈیو میں دونوں جانب سے سخت اور سنجیدہ نوعیت کے جملوں کا تبادلہ بھی سنا جا سکتا ہے۔

حکومتی حلقوں نے اس آڈیو کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردانہ منصوبہ بندی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ جے اے اے سی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور مہاجرین نشستوں کے خاتمے سمیت 38 مطالبات کے لیے احتجاج شروع کیا تھا، تاہم تناؤ بڑھنے کے بعد حکومت نے اس تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دے دیا ہے۔ تنظیم کا مرکزی دفتر سیل کر کے 31 کور کمیٹی ارکان سمیت دیگر رہنماؤں کو فورتھ شیڈول (شیڈول ون) میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی بھی ہوئے تھے۔

یہ مبینہ آڈیو لیک ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اسے مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ حکومتی حامی اسے تنظیم کی حقیقی نیتوں کا ثبوت قرار دے رہے ہیں جبکہ جے اے اے سی کے حامی اس آڈیو کو جعلی، ایڈیٹڈ یا سازش قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اب تک اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اس نے آزاد کشمیر کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور حکومت نے آج 9 جون کے احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے