نیویارک (کیو این این ورلڈ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، کیونکہ افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی، سیاسی روابط اور تجارت کیلئے متعدد اقدامات کئے اور ہمیں طالبان حکومت سے خونریزی ختم ہونے اور امن کی امید تھی۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کو امید تھی کہ طالبان اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ذمہ دار انتظامیہ بنیں گے اور کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش جیسے گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کریں گے، لیکن بدقسمتی سے طالبان ناکام رہے اور انہوں نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو یکسر نظر انداز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو حاصل آزادی کے باعث پاکستان سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے اور ہمارے پاس پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔
مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ دہشت گرد وہاں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا اربوں ڈالر کا جدید عسکری سازوسامان استعمال کر رہے ہیں اور اب تک جدید ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات ہو چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025 کے دوران پاکستان کو 5300 سے زائد دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ افغانستان سے جنم لینے والی اس دہشت گردی کے باعث 1200 سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ خیبرپختونخوا میں پولیس چوکی پر حالیہ حملے کی تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ طالبان نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ علمی تعاون کا خطرناک راستہ اختیار کر لیا ہے، اور ان کا کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے لاتعلقی اختیار نہ کرنا ان کی ملی بھگت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان اب خاموش تماشائی نہیں بن سکتا اور اپنی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کیلئے حقِ دفاع کے تحت بھرپور جواب دے گا۔ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین نے اس حوالے سے مفاہمت کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن افغان مصائب کی اصل وجہ طالبان کا غیر ذمہ دارانہ طرز حکمرانی اور انتہا پسندانہ نظریہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں افغان چیلنجز کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو شہری ہلاکتوں میں شامل کرنا یو این رپورٹنگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے صراحت کی کہ انسانی امدادی اشیاء کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ خود افغان طالبان کی حکومت امدادی کھیپ کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کرتی ہے۔
مستقل مندوب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور وقار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا ہے، لہٰذا یو این اب افغان شہریوں کی تیسرے ممالک میں آبادکاری کے زیر التوا مقدمات کو واضح کرے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان کا مطالبہ بالکل سادہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے، کیونکہ طالبان کیلئے درست سمت اختیار کرنے اور اصلاح احوال کیلئے مہلت اب بہت محدود ہو رہی ہے۔