میہڑ (کیو این این ورلڈ/منظور علی جوئیہ کی رپورٹ) میہڑ کے نواحی گاؤں انبار میں خودکشی کا ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 18 سالہ نوجوان ندیم کھوسو نے مبینہ طور پر گھریلو پریشانی اور شدید غربت سے تنگ آ کر زہریلی گولیاں کھا لیں۔ اہل خانہ نے تشویشناک حالت میں اسے فوری طور پر لاڑکانہ کے ہسپتال منتقل کیا، تاہم وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اسی گاؤں میں دو اور افراد نے بھی اسی طرح زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی تھی، جن میں 40 سالہ سکندر کھوسو اور اکبر کھوسو کی 25 سالہ بیٹی شامل ہیں۔ یکے بعد دیگرے پیش آنے والے خودکشی کے ان پیاپے واقعات نے پورے علاقے میں شدید خوف، ہراس اور گہری تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔
مقامی شہریوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار ایسے سانحات رونما ہونے کے باوجود متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ مارکیٹ میں زہریلی ادویات کی کھلے عام فروخت پر کوئی واضح پابندی یا نگرانی موجود نہیں، جس کی وجہ سے لوگ آسانی سے ان مہلک اشیاء تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ زہریلی ادویات کی فروخت کو فوری طور پر مانیٹر اور کنٹرول کیا جائے، دکانداروں کے لیے سخت ضوابط نافذ کیے جائیں، اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کے لیے مشاورت و مدد کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے لرزہ خیز واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔