بیجنگ/ہانگژو (کیو این این ورلڈ) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، دونوں ممالک نے گزشتہ 75 برسوں میں ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور اب یہ تعلقات اقتصادی، ڈیجیٹل اور تکنیکی تعاون کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قرضوں اور امداد کے بجائے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ ترقی کا خواہاں ہے جبکہ چین کے تعاون سے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور ای کامرس کے شعبوں میں انقلاب برپا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے شہر ہانگژو میں عالمی شہرت یافتہ چینی ای کامرس کمپنی Alibaba Group کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین Joe Tsai نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام، پاکستانی و چینی کاروباری شخصیات اور علی بابا گروپ کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران چیئرمین جوو سائی نے وزیر اعظم کو کمپنی کے مختلف منصوبوں، ڈیجیٹل تجارت، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور عالمی ای کامرس نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کی موجودگی میں حکومتِ پاکستان، وزارتِ آئی ٹی اور علی بابا گروپ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
اس موقع پر جوو سائی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان نے قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، سرمایہ کاری دوست ماحول اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے، دونوں ممالک پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں اور صدر شی جن پنگ کی قیادت میں دونوں ملکوں کے تعلقات نئی وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی بابا دنیا کے بڑے اور معتبر اداروں میں شامل ہے اور پاکستان اس کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان میں مستحق افراد کے لیے ڈیجیٹل والٹ متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے شفاف انداز میں خطیر رقوم تقسیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن حکومت کا اہم سنگ میل ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس، کاروبار اور مالیاتی نظام میں شفافیت لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی بابا گروپ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ پاکستان کے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، صحت، تعلیم، ثقافت اور کاروباری شعبوں میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کے مطابق جدید AI نظام اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں سے حل نہ ہونے والے مسائل کا جدید حل فراہم کریں گے جبکہ اس تعاون سے پاکستان کی نوجوان نسل کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
ادھر چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چین کی کمپنیاں اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کریں، حکومت کراچی میں خصوصی اکنامک زون سمیت مختلف اقتصادی مراکز میں عالمی معیار کی سہولیات، ون ونڈو آپریشن اور طویل مدتی لیز پر زمین فراہم کرے گی۔
کانفرنس کے دوران پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پانچ بزنس ٹو بزنس کانفرنسوں میں 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 200 سے زیادہ ایم او یوز پر دستخط ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 30 فیصد عملی معاہدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
کانفرنس میں کھاد سازی، زرعی ٹیکنالوجی، ایگرو کیمیکل، مشینی کاشت کاری، مصنوعی ذہانت، فائبر آپٹکس، ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق اہم معاہدے طے پائے۔ ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان 1.12 ارب ڈالر مالیت کے کھاد سازی منصوبے پر دستخط ہوئے جبکہ آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اور آر آئی سی کے درمیان زرعی مشینری اور ملتان میں ریجنل آفس کے قیام کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے مگر اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ اگر جدید زرعی طریقوں، اعلیٰ معیار کے بیجوں اور مشینی کاشتکاری کو فروغ دیا جائے تو آئندہ پانچ سے سات برسوں میں پاکستان چین کو 10 ارب ڈالر تک زرعی مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے جبکہ سی پیک 2.0 اب صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل سلک روٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اس نئے مرحلے میں فائبر آپٹکس، سیمی کنڈکٹرز، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیراعظم کے دورۂ علی بابا ہیڈکوارٹرز کے دوران طے پانے والے معاہدوں کے مطابق اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ پاکستان میں اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی AI ماڈلز تیار کریں گے جبکہ پانچ لاکھ افراد کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ AI ہیکاتھونز اور اختراعی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
اسی طرح DAMO اکیڈمی اور پاکستانی ادارے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کرائیں گے جبکہ پاکستانی جامعات میں جدید AI اور ایمباڈیڈ انٹیلیجنس پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے۔ مزید برآں علی بابا اور سمیڈا کم از کم دو ہزار پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کریں گے۔
مالیاتی شعبے میں کوکو ٹیک پاکستان میں “Buy Now, Pay Later” سروس متعارف کرائے گا جس کے لیے ابتدائی طور پر 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ ڈیجیٹل تجارت اور مالی شمولیت کو فروغ مل سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی و تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور پاکستان خطے میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے طور پر اپنی جگہ مزید مستحکم کرے گا۔