بنگلا دیشی پاسپورٹ میں اسرائیل سے متعلق پرانی شرط بحال کرنے کا اعلان

بنگلا دیش (کیو این این ورلڈ) بنگلا دیشی حکومت نے جنرل پاسپورٹ پر دوبارہ “سوائے اسرائیل” کے الفاظ شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کے پاسپورٹ پر ایک بار پھر یہ عبارت درج ہوگی کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے۔

بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پاسپورٹ میں دوبارہ “سوائے اسرائیل” کی شرط شامل کی جا رہی ہے جبکہ سفارتی پاسپورٹ میں اس فیصلے پر پہلے ہی عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

بنگلا دیشی وزارت داخلہ اور محکمہ امیگریشن و پاسپورٹس کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ فلسطین کے مسئلے پر بنگلا دیش کی دیرینہ خارجہ پالیسی، عوامی جذبات اور اخلاقی مؤقف کے مطابق بحال کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے دور میں تقریباً 4500 کروڑ ٹکا کی لاگت سے ای پاسپورٹ سروس شروع کرتے وقت “سوائے اسرائیل” کی عبارت پاسپورٹ سے ہٹا دی گئی تھی، جس پر حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال عبوری حکومت کے دوران وزارت داخلہ نے 7 اپریل کو ایک مراسلہ جاری کیا تھا، جس میں حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ پاسپورٹ میں دوبارہ یہ عبارت شامل کی جائے، تاہم اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد صرف سفارتی پاسپورٹس تک محدود رہا تھا۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش اور اسرائیل کے درمیان نہ ماضی میں سفارتی تعلقات رہے ہیں اور نہ ہی موجودہ وقت میں ہیں۔ 1971 میں پاکستان سے علیحدگی کے بعد سے بنگلا دیشی پاسپورٹ پر روایتی طور پر یہ عبارت درج کی جاتی رہی ہے کہ “یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، سوائے اسرائیل کے”۔

حکام کے مطابق پاسپورٹ کے واٹر مارک اور تصاویر میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ نئی تصاویر میں جولائی کی عوامی تحریک کی علامت سمجھے جانے والے ابو سعید کی تصویر شامل کی جائے گی جبکہ بعض موجودہ تصاویر، جن میں شیخ مجیب الرحمان کا مزار اور مجیب نگر یادگار شامل ہیں، کو ہٹایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے