گھوٹکی :غریب لڑکی درندگئ کا شکار، حکام بالا نوٹس لیں گے؟عوام کا سوال

گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) عادلپور کے گاؤں وزیر چاچڑ کی رہائشی پندرہ سالہ حوران چاچڑ مبینہ طور پر مقامی وڈیروں کے ظلم کا شکار ہو گئی۔ متاثرہ لڑکی حوراں چاچڑ نے اپنے والد شبیر اور والدہ یاسینہ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب سکھر پہنچ کر میڈیا کے سامنے رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

متاثرہ لڑکی نے روتے ہوئے بتایا کہ 3 مئی کے دن وڈیروں مشتاق چاچڑ، نثار چاچڑ، امیر چاچڑ اور ضمیر چاچڑ نے اسے اغواء کیا اور مبینہ طور پر اجتماعی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا۔ حوراں کے مطابق ملزمان شراب کے گلاس آپس میں ٹکراتے رہے اور اس بہیمانہ فعل کی ویڈیو بھی بناتے رہے، جبکہ اس کے والدین جب تعاقب کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو ظالم ملزمان ان کے سامنے بھی زیادتی کرتے رہے۔

حوران چاچڑ نے مزید بتایا کہ جب وہ اس ظلم کی فریاد لے کر عادلپور تھانے پہنچے تو پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہیں دھکے دے کر تھانے سے باہر نکال دیا۔ مبینہ طور پر پولیس کے اس معاندانہ رویے اور ملزمان کی پشت پناہی کے بعد متاثرہ خاندان شدید خوف اور مایوسی کا شکار ہے۔

اس انسانیت سوز واقعے پر حوران چاچڑ اور اس کے والدین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری طور پر ازخود نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اس سنگین معاملے پر نامزد ملزمان اور عادلپور پولیس کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ابھی تک ان کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے