کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) بلوچستان حکومت نے صوبے میں مون سون کنٹنجینسی پلان 2026 اور کسی بھی امکانی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے 7 ہزار 500 ملین روپے کے بھاری فنڈز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہیٹ ویو، شدید مونسون، غیر معمولی موسمی صورتحال اور ممکنہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مربوط اسٹریٹجک حکمت عملی تیار کی گئی۔
اجلاس کے دوران صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ محکموں کے حکام نے کمیشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال صوبے کے مختلف اضلاع میں شدید ترین گرمی کے باعث درجہ حرارت 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ہیٹ ویو سے بچاؤ کے پیشگی انتظامات انتہائی ضروری ہیں۔ اس صورتحال پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور کسی بھی حادثے کی صورت میں بروقت ریسپانس سب سے لازمی جزو ہے۔ انہوں نے ہیٹ اسٹروک ایمرجنسی انتظامات، فیلڈ ایمبولینسز، پیرامیڈیکل و ہیلتھ کیئر اسٹاف کی چوبیس گھنٹے موجودگی اور ضروری ادویات کی وافر دستیابی کو ہر صورت یقینی بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس میں ممکنہ ہیٹ برسٹ کے پیش نظر صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے، پبلک مقامات پر ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور سائے دار شیڈز لگانے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ کسی بھی ممکنہ سیلابی یا ہنگامی صورتحال میں ریسکیو مشینریز کی فوری نقل و حرکت، ریلیف آپریشنز اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر وسائل فراہم کرنے کے معاملات کی بھی توثیق کی گئی۔ کمیشن نے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع سمیت اب تحصیل کی سطح پر بھی ریسکیو 1122 سینٹرز قائم کرنے اور انہیں فوری طور پر فعال کرنے کا ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔