خطے میں طوفان سے پہلے کی خاموشی؟ ایک طرف ٹرمپ کی دھمکیاں تو دوسری طرف روس اور چین کی ایران کے حق میں سفارتی صف بندی

تہران (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران خطے کے امن اور سفارتی محاذ پر اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے صدارتی محل میں ایک اہم اور طویل ملاقات کی، جو تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں ایرانی وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خطے کی مجموعی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ڈرون حملوں اور نئی فوجی جارحیت کے بادل منڈلا رہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال ابوظہبی کے اہم براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے باہر ہونے والا ڈرون حملہ ہے، جہاں سعودی بارڈر کے قریب الظفرہ میں قائم پلانٹ کے جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم اماراتی حکام کے مطابق اس پر قابو پا لیا گیا اور تمام یونٹس ریڈیولوجیکل سیفٹی کے ساتھ معمول کے مطابق فعال ہیں۔

سفارتی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بحری جہاز سے جاری کردہ اپنی تصاویر کے ساتھ صدر ٹرمپ نے ایران کا نام لیے بغیر "طوفان سے پہلے کی خاموشی” کا پیغام شیئر کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ تہران کے لیے بہت برا وقت ہوگا۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر تہران کا عدم اعتماد برقرار ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی صدر کی دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو امریکا کے مفادات اور اس کی فوج کو غیر متوقع اور شدید تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی دوران میڈیا رپورٹس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے عائد کی گئی خفیہ اور انتہائی سخت شرائط بے نقاب ہو گئی ہیں۔ امریکی شرائط کے مطابق ایران کو تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرنا ہوگی، صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے کی اجازت ہوگی، منجمد اثاثے بحال نہیں کیے جائیں گے اور جنگ بندی کو بھی مستقبل کے مذاکرات سے مشروط رکھا جائے گا۔ اس کے برعکس ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے صرف ایران میں ہی نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی پہلی شرط ہے۔ ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ان سخت مطالبات نے مذاکرات کے عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ایران کو روس اور چین کی مضبوط سفارتی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف (Mikhail Ulyanov) نے نیویارک ٹائمز کی ان رپورٹس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ روسی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران پر دوبارہ حملے کا مطلب ہوگا کہ امریکا اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ روس نے چینی وزیر خارجہ کے اس مؤقف کی بھی مکمل تائید کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے لیے مکمل جنگ بندی کی جائے۔

اسٹریٹجک محاذ پر ایران نے بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کو چین سے متعلق امور کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار اور تہران کی اسٹریٹجک ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی قوم کی 70 روزہ مزاحمت نے دنیا بھر میں ایک بڑی تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور دنیا کا مستقبل اب "گلوبل ساؤتھ” سے وابستہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے