بیجنگ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، بڑے تجارتی معاہدوں کا اعلان

بیجنگ (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے دوبارہ ملاقات کی ہے، جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چین ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے موقف پر امریکہ کے ساتھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اہم تجارتی مسائل پر اتفاق کر لیا ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

ژونگ نان ہائی کے تاریخی باغات میں چہل قدمی کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان نیا دو طرفہ تعلق ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی صدر کو چینی گلابوں کے بیج تحفے میں دینے کا وعدہ بھی کیا۔ صدر شی نے ‘تھیوسیڈائڈز ٹریپ’ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور چین باہمی تعاون کے ذریعے جنگ کے خطرات سے بچ سکتے ہیں اور ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے حوالے سے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کو یا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر وہ مکمل تباہی کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو ایرانی میزائلوں کی نئی تنصیبات کا علم ہے، تاہم انہوں نے موجودہ ایرانی قیادت کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ ایران سے حساس جوہری مواد کا خاتمہ ضروری ہے۔

تجارتی محاذ پر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے 200 بوئنگ طیاروں سمیت امریکی تیل اور سویابین خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اگرچہ اس اعلان کے بعد مارکیٹ میں بوئنگ کے حصص میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ امریکہ اب دنیا کا سب سے متحرک ملک بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے