ابوظہبی/تل ابیب(کیو این این ورلڈ) ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے خفیہ دورے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آگئے، جہاں اسرائیل نے دورے کی تصدیق کردی جبکہ متحدہ عرب امارات نے اس کی تردید کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن ’’شیر کی دھاڑ‘‘ کے دوران نیتن یاہو نے غیراعلانیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے اہم ملاقات بھی کی۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اس دورے کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت ہوئی۔ اسرائیل کی جانب سے پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو اور اماراتی قیادت کے درمیان براہ راست ملاقات ہوئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے خلاف جنگی تعاون اور دفاعی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ایران جنگ کے دوران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان عسکری اور انٹیلی جنس تعاون میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور فوجی معاونت بھی فراہم کی تاکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے مارچ اور اپریل میں متحدہ عرب امارات کے متعدد خفیہ دورے کیے، جن میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں اور دفاعی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے تھے جن میں اسرائیل نے امارات کی سلامتی کیلئے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ابراہیمی معاہدے کے تحت شفاف اور علانیہ ہیں اور ان میں کوئی خفیہ یا غیر اعلانیہ ملاقات شامل نہیں۔
اماراتی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو یا کسی اسرائیلی فوجی وفد نے متحدہ عرب امارات کا دورہ نہیں کیا۔
The UAE denies what is being circulated regarding a visit by the Israeli Prime Minister or the reception of an Israeli military delegation.

