گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے ضلع گھوٹکی کے سکولوں کو علیحدہ بجٹ فراہم کیا گیا ہے، اس لیے ہیڈ ماسٹرز کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے سکولوں کی حالت بہتر بنائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں تعلیمی اصلاحات کے لیے قائم ڈسٹرکٹ سروس ڈلیوری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ای اوز سیکنڈری و پرائمری، سی ایم او عمران علی سیال اور ٹی ای اوز نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کے 135 سکولوں کی مرمت کے لیے اسکیم رکھی گئی ہے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے سیکنڈری اور پرائمری اسکولوں کو مرمت، فرنیچر اور اسٹیشنری کی مد میں بجٹ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ ماسٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے اسکولوں کی بہتری کے لیے مخلصانہ کردار ادا کریں، خصوصاً فرنیچر کی کمی کو ختم کیا جائے تاکہ طلبہ کو درپیش مشکلات کم ہوسکیں۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ڈی ای اوز کو ہدایت کی کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو رپورٹ ارسال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور جن سکولوں کو بجٹ فراہم کیا گیا ہے ان کے ڈی ڈی اوز کی رہنمائی کی جائے تاکہ بجٹ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔
قبل ازیں سی ایم او عمران علی سیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 74 پرائمری اور 51 سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ مسلسل غیر حاضر ہیں جبکہ ضلع بھر کے 286 اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔