پاک فوج اور پاکستان زندہ باد

بنیانِ مرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں
تحریر: صباحت آصف

“بنیانِ مرصوص” قرآنِ پاک کا خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ لفظ قرآنِ مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے لیا گیا ہے:

“بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”

9 مئی ہماری تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے۔ یہ دن پاکستان اور پاک فوج کی فتح، اتحاد اور استقامت کی علامت بن کر ابھرا۔ پاک فوج کی بہادری، قربانی اور وطن سے وفاداری نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا بھر میں فخر سے بلند کیا۔ پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ نے مل کر دشمن کو نہ صرف شکست دی بلکہ اُس کے ائیر بیسز اور کمانڈ سینٹرز کو بھی تباہ کر دیا۔ اس معرکے میں 200 سے زائد جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن کی قربانیوں اور کامیابیوں کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

“شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکات ہے”

پاکستان کے ہر گلی، کوچے اور محلے میں ایک ہی نعرہ گونج اٹھا:
“پاک فوج زندہ باد، پاکستان زندہ باد”۔

پاکستان کی افواج نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک کو شکست دینا آسان نہیں۔ “بنیانِ مرصوص” صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ماں کی دعا، بہن کی امید اور قوم کے عہدِ وفا کی علامت ہے۔

جب وطن کی مٹی پکارتی ہے تو پاک فوج کے بیٹے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں نکل پڑتے ہیں۔ برف پوش پہاڑ ہوں یا تپتا صحرا، اندھیری راتیں ہوں یا گولیوں کی بوچھاڑ، ہمارے جوان بنیانِ مرصوص کی طرح ڈٹ جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی صرف میدانِ جنگ فتح کرنا نہیں بلکہ ہر ماں کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ اُس کا بیٹا رائیگاں نہیں گیا۔

جب سبز ہلالی پرچم دشمن کی زمین پر لہراتا ہے تو اُس میں شہیدوں کے لہو کی خوشبو اور غازیوں کے پسینے کی چمک شامل ہوتی ہے۔ یہ کامیابی ہر اُس بچے کی مسکان میں نظر آتی ہے جو سکون سے سکول جا سکا، ہر اُس ماں کی دعا میں جھلکتی ہے جو رات کو بے خوف سو سکی۔ پاک فوج کی فتح دراصل 24 کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کا اطمینان ہے۔ یہ وہ عہد ہے جو وردی والوں نے اپنی مٹی سے کیا اور اپنے لہو سے نبھایا۔

“شہید کبھی مرتے نہیں،
وہ تو قوم کے دلوں میں دھڑکتے ہیں،
ہر صبح کے سورج میں چمکتے ہیں،
ہر پرچم کی ہوا میں لہراتے ہیں۔”

9 مئی کو جب وطن پر آزمائش آئی تو پوری قوم بنیانِ مرصوص بن گئی۔ سیالکوٹ اس مضبوط دیوار کا ایک اہم ستون ثابت ہوا۔ شہیدوں اور غازیوں کا شہر سیالکوٹ، جس کی مٹی میں 1965ء کی جنگ کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں، ایک بار پھر وطن سے وفا کی مثال بن کر سامنے آیا۔ جب دشمن نے للکارا تو سیالکوٹ کے کسان، مزدور، تاجر اور نوجوان سب ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔

9 مئی نے یہ ثابت کر دیا کہ نہ صرف سیالکوٹ بلکہ پورا پاکستان اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ شہداء کی قربانیوں، ماؤں کی دعاؤں اور قوم کے اتحاد کا مقدس نشان ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور اُن کے لہو کی حرمت ہمیشہ قائم رکھے۔

پاک فوج زندہ باد
پاکستان زندہ باد
سیالکوٹ زندہ باد

“ہم بھی دیکھیں گے،
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”

اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے